ٓآزادی کشمیری کی دوکانیں۔تحریر:آفتاب بیگ

ٓآزادی کشمیری کی دوکانیں
گستاخیاں

۔تحریر:آفتاب بیگ
وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ بالخصوص آزادکشمیر میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے سلسلہ میں مختلف اقدامات اور معاہدات کرتے نظر آ رہے ہیں گو وہ مخصوص کشمیریوں سے ہی میل ملاقاتیں فرما رہے ہیں لیکن برطانیہ میں آباد کشمیریوں کی بڑی تعداد ان کی توجہ بعض اہم نکات کی جانب مبذول کروانا چاہتی ہے جس میں سرفہرست مسئلہ کشمیر کے بارے میں تحفظات قابل ذکر ہیں برطانوی کشمیر ی اس بات پر نالاں ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کے نام پر حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں سرمہری کا شکار ہیں اور اس تحریک کو محض انتخابی اور غیر ممالک کے دورے کرنے تک نعرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اس تاثر کی بنیاد اس وقت مزید مضبوط ہو گئی جب حکومت پاکستان کے گذشتہ مہینوں میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیرون ممالک آنے والے وفود پر نظر دوڑائی گئی ان میں ایسے ایسے چہرے اور آوازیں نظر آئیں جن کو تحریک آزادی کشمیر کے بنیادی نقاط کا بھی علم نہیں تھا ان صاحبان کو نہ صرف وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے تیاری کے لیے مواد فراہم نہیں کیا گیا بلکہ انھیں یہ تک نہ بریف کیا گیا کہ انھوں نے کس سے کیا بات فرمانی ہے رہتی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب ان کے دورے کے حوالے سے ملاقاتیں کرنے والوں کے چہرے پاکستانی میڈیا کے ذریعے عوام کو دکھائی دیے تو ان میں سے اکثریت پاکستانی مارکہ ایم پی اور لارڈز ہی تھے جن کا زیادہ تر تعلق نہ صرف خود کشمیر سے ہے بلکہ اس تحریک کا ورد وہ صبح و شام صرف پاکستانی میڈیا اور تقریبات میں کرتے ہیں اور جن کی محنت اور کوششوں سے محض بیس پچیس ممبران پارلیمنٹ اہم ترین انسانی مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ تک پہنچ سکے جن میں ایک دفعہ پھر اکثریت ہم پاکستانی کشمیریوں ہی کی تھی مختصرا مسئلہ کشمیر پر تحریک آزادی کشمیر کے اصل مجاہدوں کے ساتھ بد دیانتی کا سلسلہ جاری ہے جس سے حکومت پاکستان کا کردار قابل مذمت ہے لیکن اس کی وجہ تحریک کے بیس کیمپ حکومت آزاد کشمیرکی تحریک سے عدم دلچسپی ہے جس کا بڑا ثبوت مولانا فضل الرحمن جیسی شخصیت کا کشمیرکمیٹی کا چئیرمین ہونا ہے اس کے ساتھ حکومت کشمیر کی جانب سے برطانیہ یورپ میں جگہ جگہ تحریک آزادی کشمیر کی دوکانوں کا بھی نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے جن کا روزگار گذشتہ بیس پچیس سالوں سے بالخصوص اس تحریک سے وابستہ ہے ان دوکانوں کے چئیرمینوں اور دائریکٹروں سے نتائج کا پوچھا جائے تو ان گذشتہ سالوں میں تحریک ایک انچ بھی اپنی منزل کی جانب نہیں بڑھ پائی کوئی خدا خوفی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنی کشمیری نوجوان نسل کو بھی تحریک آزادی کشمیر کی جانب متوجہ نہیں کر پائے یہی وجہ ہے کہ ہمارے برٹش نوجوان شام سے فلسطین تک مظالم پر تو آوازیں بلند کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں لیکن بھارت کے کشمیریوں پر مظالم پر وہ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ بنیادی مسئلہ سے ہی آگاہ نہیں ہیں
جناب وزیر اعظم اب وقت آ چکا ہے کہ ان فوٹو مافیا کشمیریوں نام نہاد لیڈروں کی دوکانیں بند کی جائیں جو بعض صحافیوں سے لفافوں کے بدلے کمپنی کی مشہوری کرواتے رہتے ہیں اور کشمیری کے نام پر ہونے والی فنڈنگ سے بیرونی ممالک دورے، مکانات اور تصویریں بنواتے رہتے ہیں
تحریک آزادی کشمیر کے وسیع تر مفاد میں اب آپ کو انتہائی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے تحت حکومت پاکستان پر دباوٗ ڈالا جائے کہ کسی باصلاحیت شخصیت کو کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بنایا جائے جو عالمی سطح پر عالمی زبان اور انداز میں تحریک آزادی کشمیر کی حمایت اور بھارتی بربریت پر آواز بلند کر سکے مزید بیرون ممالک تمام نام نہاد تحریک کشمیر کے نام پر قائم دوکانوں کے سر سے ہاتھ اٹھا کر ہائی کمیشن میں کشمیر آفس قائم کیے جائیں جو مقامی اہل اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کشمیریوں کے تحت کام کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو جدید ذرائع ابلاغ کے تحت عالمی سطح پر اٹھایا جا سکے اور اس تحریک کا دائرہ محض کشمیری اور پاکستانی ممبران پارلیمنٹ سے نکال کر دیگر کمیونٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پھیلایا جا ئے تاکہ آدھی صدی پر محیط اس تحریک کو کم از کم منزل کے حصول کے جانب جانے والی سمت پر رواں کیا جا سکے تاحال موجودہ ذمہ داران ڈنگ ٹپاوُ، کھاوٗ پیو اور فوٹو بنواوٗتک ہیں اس سے بڑھ کر ان میں نہ ہی صلاحیت و اہلیت ہے اور نہ ہی مقصد کے حصول کی لگنا۔
تحریک آزادی کشمیر پر ہونے والے مذاق اور محض روٹی شوٹی کی تقریبات کا اب خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے لیے ا صل قربانیاں دینے والوں کو یہ احساس ملے کہ ان کے بہن بھائی محض نعرے نہیں بلکہ عملی طور پر ان کے ہم قدم ہیں

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow