قبل ازیں بھارتی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکی کمپنی نے ان کی فروخت بند نا کی تو ایمیزون کے ملازمین کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

ایمیزون پر ‘بھارتی پرچم والے ڈورمیٹ’ کی فروخت بند

بھارت کی طرف سے تنقید کے بعد اشیاء کی آن لائن فروخت کی کمپنی ایمیزون نے بدھ کو بھارت کے پرچم کے ’’ڈورمیٹ‘‘ یعنی (دروازے پر جوتوں کی گرد وغیرہ صاف کرنے کے لیے بچھایا ہوا پائیدان) کو اپنی ویب سائیٹ سے ہٹا دیا ہے۔

قبل ازیں بھارتی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکی کمپنی نے ان کی فروخت بند نا کی تو ایمیزون کے ملازمین کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ “ایمیزون غیر مشروط معافی مانگے (اور) وہ فوری طور پر ان تمام مصنوعات کو ہٹا دیں جو ہمارے قومی جھنڈے کی توہین ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگر ایسا فوری طور پر نا کیا گیا تو ہم ایمیزون کے کسی بھی عہدیدار کو بھارت کا ویزہ نہیں دیں گے۔”

یہ ڈور میٹس ایمیزون کی ایک ویب سائٹ پر ایک تیسری پارٹی بیچ رہی تھی تاہم بدھ دیر گئے انہیں ویب سائیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایمیزون کے ایک ترجمان نے ای میل میں کہا کہ “یہ چیز اب فروخت کے لیے (ویب) سائٹ پر موجود نہیں ہے۔”

اگرچہ ایمیزون کینیڈا میں دیگر ملکوں کے پرچموں کی طرح بنے ہوئے ’’ڈور میٹ‘‘ فروخت کرتی ہے تاہم بھارتی قانون کے تحت اس کے قومی جھنڈے کی کسی بھی طرح کی بے حرمتی کی سزا قید اور جرمانہ ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے ٹویٹ میں کینیڈا میں بھارتی ہائی کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو ایمیزون کے ساتھ اٹھائے۔

x

Check Also

بھارتی کشمیر میں کرفیو، ہزاروں افراد کی سبزار کے جنازے میں شرکت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک علیحدگی پسند کمانڈر کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور اتوار کو سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ہفتہ کو سری نگر کے مضافات میں واقع ترال میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً 16 گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں علیحدگی پسند کمانڈر سبزار احمد بھٹ اپنے ساتھی فیضان مظفر سمیت مارے گئے تھے۔ اتوار کو انھیں شہدا کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا اور اس سے قبل کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ارد گرد کے دیہاتوں سے ہزاروں افراد نے بھٹ کے جنازے میں شرکت کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر یہ لوگ بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ 30 سالہ سبزار بھٹ گزشتہ جولائی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کے بعد ان کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔ وانی کی ہلاکت کے بعد ہی سے بھارتی کشمیر میں صورتحال شدید تناؤ کا شکار ہے اور آئے روز مظاہرے اور احتجاج اور انھیں روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک 80 سے زائد شہری اور دو پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ سبزار بھٹ کی ہلاکت کو بھارتی سکیورٹی فورسز علیحدگی پسندوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اپنی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow