امریکہ کی طرف سے بدھ کو جن اداروں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں شمالی کوریا کی لیبر کی وزارت اور پلاننگ کمیشن بھی شامل ہے۔

امریکہ کی شمالی کوریا کے سات عہدیداروں پر پابندی عائد

امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے ‘انسانی حقوق کی مسلسل شدید خلاف ورزی اور سنسرشپ کی پالیسیوں’ کی بنا پر شمالی کوریا کے سات اداروں اور افراد پر پابندی عائد کر دی ہے جن میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن بھی شامل ہے۔

امریکہ کی طرف سے بدھ کو جن اداروں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں شمالی کوریا کی لیبر کی وزارت اور پلاننگ کمیشن بھی شامل ہے۔

محکمہ خارجہ کے جمہوریت، انسانی حقوق اور لیبر کے معاملات سے متعلق معاون وزیر خارجہ ٹام مالانیو سکی نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ “ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں، ہم ان کے نام جانتے ہیں، وہ چھپ نہیں سکتے۔”

مالانیوسکی نے کہا کہ امریکہ توقع نہیں کرتا کہ نئی پانبدیوں یا واشنگٹن کی پالیسی کی وجہ سے “شمالی کوریا میں فوری تبدیلی آ سکتی ہے” تاہم یہ اُمید ہے کہ اس کے کچھ اثرات ہو سکتے ہیں۔

ان پابندیوں کی وجہ سے امریکہ میں ان کی جائیداد اور اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے، امریکہ شہریوں پر معمول کے مطابق شمالی کوریا کے ان سات افراد اور اداروں سے لین دین پر پابندی ہو گی۔

محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ “ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔”

“شمالی کوریا کی حکومت ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست اور جبری مشقت کے کیمپوں اور تشدد میں ملوث ہے۔”

ٹونر نے کہا کہ شمالی کوریا کے حراستی کیمپوں میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد بند ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنسر شپ اور معلومات تک رسائی پر” مکمل” پانبدی ہے۔

جن افراد پر پابندی عا’ئد کی گئی ہے ان میں کم جونگ اُن کی چھوٹی بہن کم یو جونگ اور شمالی کوریا کی پروپیگنڈا ایجنسی کے نائب سربراہ بھی شامل ہیں جو بنیادی طور پر میڈیا کے سنسرشپ کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی کے وزیر مملکت کم وان ہانگ بھی شامل ہیں جن کی وزارت حراستی مراکز میں مبینہ طور پر تشدد، مارپیٹ، لوگوں کو بھوکا رکھنے اور ان سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہے۔

x

Check Also

بھارتی کشمیر میں کرفیو، ہزاروں افراد کی سبزار کے جنازے میں شرکت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک علیحدگی پسند کمانڈر کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور اتوار کو سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ہفتہ کو سری نگر کے مضافات میں واقع ترال میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً 16 گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں علیحدگی پسند کمانڈر سبزار احمد بھٹ اپنے ساتھی فیضان مظفر سمیت مارے گئے تھے۔ اتوار کو انھیں شہدا کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا اور اس سے قبل کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ارد گرد کے دیہاتوں سے ہزاروں افراد نے بھٹ کے جنازے میں شرکت کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر یہ لوگ بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ 30 سالہ سبزار بھٹ گزشتہ جولائی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کے بعد ان کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔ وانی کی ہلاکت کے بعد ہی سے بھارتی کشمیر میں صورتحال شدید تناؤ کا شکار ہے اور آئے روز مظاہرے اور احتجاج اور انھیں روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک 80 سے زائد شہری اور دو پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ سبزار بھٹ کی ہلاکت کو بھارتی سکیورٹی فورسز علیحدگی پسندوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اپنی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow