تقریباً 150 خواتین نے، جن میں زیادہ تر اُن کی ہے جن کے اہل خانہ شمالی صوبہٴ جوزجان میں طالبان سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے، کہا ہے کہ وہ اپنے اضلاع سے تعلق رکھنے والے مرد حضرات کے ہمراہ لڑائی کے لیے تیار ہیں

شدت پسندوں کے خلاف خواتین نے ہتھیار اٹھا لیے

میرویس، نور زاہد

کشیدگی کے شکار، افغانستان کے ایک شمالی صوبے میں خواتین کے ایک گروپ نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں، یہ عہد کرتے ہوئے کہ وہ داعش گروپ کے نام پر لڑنے والے سرکش طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف جنگ کریں گی۔

تقریباً 150 خواتین نے، جن میں زیادہ تر اُن کی ہے جن کے اہلِ خانہ شمالی صوبہٴ جوزجان میں طالبان سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے، کہا ہے کہ وہ اپنے اضلاع سے تعلق رکھنے والے مرد حضرات کے ہمراہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔

مملکات، دو میں سے ایک گروپ کی کمانڈر ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ ’’اُنھوں (شدت پسندوں) نے میرے تین بیٹوں کو قتل کیا اور ہمارے روزگار کو نذر آتش کیا۔ اب ہم داعش اور طالبان سے لڑنے کے لیے میدان میں نکل پڑی ہیں‘‘۔ زیادہ تر افغانوں کی طرح، وہ نام کا صرف پہلا حصہ ظاہر کرتی ہیں۔

افغان خواتین ملک کی فوج اور پولیس فورس میں شامل ہیں۔ لیکن، خواتین کی صوبائی ملیشیا 2001ء کی طالبان کی حکمرانی کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے، جس نے مردوں کے ہمراہ لڑنے کا عہد کیا ہے۔

میوند کی ایک افغان خاتون، ملالہ افغانستان کی ایک قومی ہیروئن رہی ہیں، جنھوں نے سنہ 1880 میں میوند میں برطانیہ کی فوج کے خلاف لڑائی میں افغانوں کی مدد کی تھی۔ اُنھوں نے لڑتے ہوئے اپنی جان دی تھی۔

طالبان شدت پسندوں نے سرکشی کے شکار جوزجان کے علاقے کے علاوہ، متعدد شمالی صوبوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جو عبدالرشید دوستم کا آبائی جائے پیدائش ہے، جو افغانستان کے نائب صدر اور علاقے کے مردِ آہن ہیں۔ طالبان فورسز افغان سکیورٹی افواج کے ساتھ بڑے پیمانے پر لڑائی میں ملوث رہی ہیں، جس سے دوستم کو شہ ملی ہے کہ وہ زیادہ تر وقت اپنے علاقے میں گزاریں، جہاں وہ طالبان مخالف کارروائیوں کی قیادت کرتے ہیں۔

مسلح خواتین کہتی ہیں کہ اُنھوں نے بڑی اذیت برداشت کی ہے، اور اب اُن کے لیے شدت پسندوں کی جانب سے مزید مظالم برداشت کرنا محال ہے۔

نفیسہ، درزاب کے ضلعے میں اس گروپ کی ایک رُکن ہیں۔ اُن کے بقول، ’’اُنھوں نے میرا بھائی، میری بہن، اور چچا زاد کو قتل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اُن کے خلاف اسلحہ اٹھایا ہے‘‘۔

ایک اور خاتون، جن کا بیٹا زخمی ہوا، جب کہ اُن کے کئی چچا زاد طالبان کے ہاتھوں قتل ہوئے، کہا ہے کہ خواتین کے حق میں کھڑا ہونا اُن کو بااختیار بنانے کے مترادف ہے۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow