نیویارک کے ان کے دفتر کی لابی میں ہونے والی اس نیوز کانفرنس کے دوران تقربیاً 250 صحافي موجود تھے۔

ٹرمپ کی امریکی خفیہ ایجنسیوں پر تنقید

منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے اس بارے میں ایک فائل افشا کی ہو، جسے انہوں نے جھوٹی خبر کہہ کر پکارا کہ کس طرح روس نے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

گذشتہ سال جولائی کے بعد اپنی پہلی باضابطہ نیوز کانفرنس میں مسٹر ٹرمپ نے دو خبررساں گروپس پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روس کے ساتھ ان کے تعلق کے بارے میں غیر مصدقہ اور جھوٹ پر مبنی دعوے کیے۔

نیویارک کے ان کے دفتر کی لابی میں ہونے والی اس نیوز کانفرنس کے دوران تقربیاً 250 صحافي موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خبریں سب جھوٹ ہیں۔ یہ چیز کبھی بھی نہیں ہوئی۔

منگل کی شام دو امریکی عہدے داروں نے کہا تھا کہ 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت پر مبنی دو صفحات کی ایک رپورٹ پچھلے ہفتے صدر براک أوباما اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دی گئی تھی۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب صدر طویل عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ماسکو کے ساتھ رابطے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے یہ منصوبے امریکی انٹیلی جینس اداروں کی ان معلومات کے بعد سے کڑی تنقید میں ہیں کہ روس نے صدارتی انتخابات میں سائبر حملے اور دوسرے طریقے استعمال کیے تاکہ نتائج ٹرمپ کے حق میں برآمد ہو سکیں۔

تاہم مسٹرٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کے دل میں ان لیے پسندیدگی امریکہ کے لیے اثاثہ ہے۔

ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے موقع پر عمارت سے باہر صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے ان کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے بینر لہرائے جن پر لکھا تھا کہ امریکہ کے وفادار بنو روس کے نہیں۔

مسڑٹرمپ کے ایک وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے موکل اپنے تمام کاروبار ایک ٹرسٹ بنا کر اس کی نگرانی اپنے بیٹوں کے حوالے کر دیں گے۔ اور جب تک ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں رہیں گے ان کی کمپنی نئے معاہدے نہیں کرے گی۔ ان کے ہوٹل میں غیر ملکی حکومتوں کے ذریعے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی خزانے میں جمع کر ا دی جائے گی۔

اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے 27 جولائی 2016 کو نیوز کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اپنی صدارتی حریف ہلری کلنٹن پر الزامات لگائے تھے۔

x

Check Also

آج رات آسمان پر روشنیوں کی بارش ہو گی

اگر آپ دنیا کے شمالی حصے میں ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آج یعنی بدھ کی رات کی آپ آسمان پر دم دار ستاروں کے جھرمٹ اور دل لکش روشنیوں کی چمک دمک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ خوبصورت منظر دیکھنے کے لیے آپ کو کسی دور بین کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھی اس خوبصورت منظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو اور اس پر بادل نہ ہوں۔ یہ خوبصورت منظر ان لوگوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے آسمان پر ٹوٹتے ستارے کو دیکھ کر دعا مانگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تقریباً ہر ایک منٹ کے بعد آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستارے نظر آئیں گے اور ان کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کر دے گی۔ اگر آسمان صاف اور تاریک ہو۔ اردگرد بھی روشنی کم ہو تو کبھی کبھار آسمان سے روشنی کی ایک چمکدار لکیر تیزی سے زمین کی جانب بڑھتی اور اچانک غائب ہوتی ہوئی  نظر آتی ہے ، لیکن ایسا کم  ہی ہوتا ہے کہ روشنیوں کا مینہ برسنا شروع ہو جائے ۔ بدھ کی رات ایک ایسی ہی خاص رات ہے۔ آئرلینڈ کے فلکیاتی ماہرین کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دم دار ستاروں کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب آسمان پر چاند بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ اس سال کا بہترین نظارہ ہوگا۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ دم دار ستارے کیا ہوتے ہیں۔ اور ان میں اتنی روشنی اور چمک کہاں سے آتی ہے اور پھر وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو کر کہا ں چلے جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنہیں آپ دم دار ستارہ کہتے ہیں، وہ سرے سے ستارا ہوتے ہی نہیں بلکہ وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں ۔ انہیں شہابیئے بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب  ثاقت  خلا میں بھٹکتے ہوئے چٹانی ٹکڑے ہیں ۔ یہ ٹکڑے اسی مواد سے بنے ہیں جس سے كائنات کے دوسرے اجرام فلکی بنے ہیں۔ یہ ستاروں کے آپس میں ٹکرانے، یا تباہ ہو جانے کے بعد اپنے مرکز سے بچھڑ کر خلا میں بھٹکنے لگتے ہیں اور جب وہ کسی سیارے کے قریب سے گذرتے ہیں تو اس کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ​ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے گرد ہوا کا ایک خلاف موجود ہے۔ یہ خلاف زمین پر زندگی کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ جب کسی شہاب ثاقب کو زمین کی کشش ثقل اپنی جانب کھینچتی ہے تو ہوا کی  رگڑ سے اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے ۔  اگر وہ تیز رفتار گولہ زمین سے ٹکرا جائے تو ہولناک تباہی لا سکتا ہے۔ جب ہمیں کوئی دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھتا اور غائب ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو دراصل اس وقت وہ زمین کے کرہ ہوائی میں جل رہا ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی اشکال مختلف ہوتی ہیں اور ان میں شامل عناصر اور اجزأ بھی اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جن شہابیوں کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ ہو انہیں فلکیات کی زبان میں فائی تھون کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سائنس دان بل کک کا کہنا ہے کہ فائی تھون یا تو  کرہ ارض کے قریب خلا میں تیر  رہے ہیں یا وہ  کہکشاں کے کسی حصے سے بھٹکتے ہوئے زمین کے قریب آ جا تے ہیں۔     فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس سال لوگوں کو دم دار ستاروں کی چمک دمک دیکھنے کا ایک اور موقع بھی ملے گا۔ آسمان کو روشنیوں سے نہلانے والی آج کی بارش کے تین دن بعد دم دار ستاروں کا ایک اور جھرمٹ زمین کے قریب سے گذرے گا۔ لیکن اس کا زمین سے ان کا فاصلہ تقریباً 64 لاکھ میل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی ر ات دم دار ستاروں کی بارش سے زمین کو کوئی خطر ہ نہیں ہے، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا بدقسمت لمحہ آسکتا ہے جب کوئی فائی تھون زمین کے مدار میں داخل ہو جائے اور  میلوں بڑے سائز کی اس چٹان کو  زمین کا کرہ ہوائی اسے پوری طرح جلا نہ پائے ، تو پھر جب جلتا ہوا اور آگ اگلتا ہوا فائی تھون زمین سے ٹکرا ئے گا تو ایک قیامت کا منظر ہوگا اور لاکھوں افراد آناً فاناً ہلاک ہو جائیں گے۔ بدھ کی رات دم دار ستاروں کی بارش کا نظارہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھ سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow