بدھ کی دوپہر تک یہ ٹوئیٹ 500000 بار ’ری ٹوئیٹ‘ ہو چکا تھا، جو اُن کےماضی کے اپنے ہی ایک ٹوئیٹ سے کہیں زیادہ ہے، جو اُنھوں نے ہم جنس پرست شادی پر ریاستی پابندی اٹھائے جانے کے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی منسوخی کے معاملے پر کیا تھا

اوباما کا الوداعی ٹوئیٹ، سب سے زیادہ ’ری ٹوئیٹ‘ ہوا

بدھ کی دوپہر تک یہ ٹوئیٹ 500000 بار ’ری ٹوئیٹ‘ ہو چکا تھا، جو اُن کےماضی کے اپنے ہی ایک ٹوئیٹ سے کہیں زیادہ ہے، جو اُنھوں نے ہم جنس پرست شادی پر ریاستی پابندی اٹھائے جانے کے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی منسوخی کے معاملے پر کیا تھا

امریکی صدر براک اوباما پہلے ’کمانڈر اِن چیف‘ ہیں جنھوں نے سماجی میڈیا کا وسیع استعمال کیا۔ اور، منگل کو اپنے الوداعی خطاب کے اختتام پر اُنھوں نے اپنے صدارتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک انتہائی مقبول ٹوئیٹ کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’میں تمام باتوں پر آپ کا مشکور ہوں۔ میرا حتمی پیغام بھی میرے ابتدائی پیغام ہی کی طرح کا ہے۔ میں آپ سے یہی کہتا ہوں کہ آپ تبدیلی لانے کی میری صلاحیت میں نہیں، بلکہ اپنی صلاحیت پر یقین رکھیں‘‘۔ اوباما نے یہ پیغام

@POTUS account

پر روانہ کیے گئے ٹوئیٹ میں دیا۔

بدھ کی دوپہر تک یہ ٹوئیٹ 500000 بار ’ری ٹوئیٹ‘ ہو چکا تھا، جو اُن کےماضی کے اپنے ہی ایک ٹوئیٹ سے کہیں زیادہ ہے، جو اُنھوں نے ہم جنس پرست شادی پر ریاستی پابندی اٹھائے جانے کے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی منسوخی کے معاملے پر کیا تھا۔

’ایٹ دی ریٹ آف پوٹس اکاؤنٹ‘ کے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد ’فولوئرز‘ ہیں، جب کہ صدر کا ذاتی اکاؤنٹ ’ایٹ براک اوباما‘ ہے، جس پر اُن کے ’فولوئرز‘ کی تعداد آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے۔

’ایٹ دی ریٹ آف پوٹس اکاؤنٹ‘ اب منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دیا جائے گا، جب وہ 20 جنوری کو اپنا عہدہٴ صدارت سنبھالیں گے۔ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ

@RealDonaldTrump

پر اِس وقت اُن کے ایک کروڑ 95 لاکھ ’فولوئرز‘ ہیں۔

x

Check Also

وائٹ ہاؤس کا روس کے خلاف نئی تعزیرات عائد کرنے پر غور: عہدیدار

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس پر اضافی تعزیرات عائد کرنے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات میں ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اراکین 2016ء کے انتخاب میں مداخلت کے معاملے پر کانگرس کی طرف سے منظور کردہ تعزیرات روس پر عائد نا کرنے کی وجہ سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر چکے ہیں۔ عہدیداروں نے بدھ کو کہا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر تعزیرات عائد کرنے کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور (وہ) تنقید اور میڈیا پر آنے والی خبروں پر ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "تعزیرات کا طریقہ کار طویل ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اتنا اچھا نہیں ہے۔ لیکن جب شواہد موجود ہوں ۔۔۔ تو تعزیرات عائد کر دی جاتی ہیں۔" دوسری طرف بد ھ کو ہی صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اوباما کی سابق انتظامیہ کو 2016 ء میں روسی مداخلت کو نا روکنے پر تحقیقات کا کیوں سامنا نہیں ہے۔ تاہم وہ ایسا کوئی مطالبہ کرنے سے رک گئے کہ اٹارنی جنرل جید سیشنز اوباما کے دور کے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے عہدیداروں کے روسیوں کی ساتھ مبینہ ساز باز کے معاملے کی فوجداری تحقیقات سے توجہ ہٹانے کے لیے اوباما انتظامیہ کی بات کی جو 2016ء میں برسر اقتدار تھی۔ ٹرمپ اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ سیسثنز نے محکمہ انصاف کی طرف سے کیے جانے والے تحقیقاتی عمل سے خود کو کیوں الگ کر لیا تھا کیونکہ 2016ء میں وہ بھی واشنگٹن میں روس سفیر کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ٹرمپ کا یہ بیان خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی طرف سے گزشتہ ہفتے 13 روسی شہریوں اور تین اداروں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ وہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ’’انتخابات اور سیاسی عمل سے متعلق کارروائیوں‘‘ میں ملوث رہی ہے۔ اپنی صدارت کے آخری ہفتے کے دوران اوباما نے انتخاب میں مداخلت کرنے پر نو روسی افراد اور اداروں کے خلاف تعیزات عائد کی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے 35 روسی حکومت کے عہدیداروں کو ملک بدر کر دیا تھا اور دو کمپاؤنڈ کو بھی بند کر دیا تھا جن کے بارے میں امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں روسی خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow