سیاسی ارتعاش۔تحریر عامر کیانی

بلدیاتی اداروں کی تکمیل کے ساتھ ہی جہلم کی سیاست میں طوفان آچکا ہے چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں(ن لیگ پی ٹی آئی )میں اضتلافات کو نقطہء عروج پر پہنچا دیا ہے اس الیکشن میں ن لیگی امیدوار حافظ اعجاز جنجوعہ کو ضلعی تنظیم کے ساتھ ساتھ چار ممبران اسمبلی اور د و ممبران قومی اسمبلی کی حمایت حاصل تھی لیکن نسبتاکم تجربہ کار ممبر قومی اسمبلی راجہ مطلوب مہدی کی سربراہی میں آزاد امیدوار راجہ قاسم (باغی گروپ )نے دس ووٹوں کی واضح اکثریت سے شیر کے نشان پر لڑنے والے حافظ اعجاز جنجوعہ کو شکست سے دو چار کیا آزاد امیدوار راجہ قاسم نے ضلعے کا چئیرمین بن کر جہلم کی سیاست میں نیا ارتعاش پیدہ کر دیا جس کی جھلک آئندہ جنرل انتخابات میں دیکھنے کو ملے گئی دونوں امیدواروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ضلع چیئرمینی کے لیے مرزا جمشید سامنے آئے جو ان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر تھا ۔مسلم لیگ ن کی جانب سے ضلع چیئرمینی کا پہلا ٹکٹ راجہ قاسم جو جاری کیا گیا جو کہ یونین کونسل پنن وال سے چیئرمین منتخب ہو کر آئے تھے جبکہ چند دن بعد ضلعی جنرل سیکرٹری اور مخصوص نشست پر کسان کونسلر منتخب ہونے والے حافظ اعجاز جنجوعہ سے راجہ قاسم کی چیئرمینی کا ٹکٹ ہضم نہ ہو سکا اور وہ اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کی سفارش پر میاں منان سے جاری کروا دیا جسکے بعد مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت سمیت ایم این اے اور ایم پی اے کا امتخان شروع ہو گیا ۔اور راجہ قاسم نے اپنے ساتھی چیئرمینوں سے اور ایم این اے راجہ مطلوب مہدی کے ساتھ مشاورت کر کے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے شیر کے نشان کی بغاوت کا اعلان کر دیا اور اور پاکستان مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں واضع کھل کر سامنے اگئی۔4 ایم پی اے اور 2 ایم این اے نے حافظ اعجاز جنجوعہ کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے حمایت کا اعلان کر دیا ،اور دوسری طرف ایم این اے مطلوب مہدی کھل کر تو راجہ قاسم گروپ کی حمایت نہ کی لیکن در پردہ باغی گروپ (راجہ قاسم)کی مدد کرتے رہے جسکے نتیجے میں یہ ضلع کونسل کی چئیرمینی باغی گروپ(راجہ قاسم)نے جیت لی ،دریں اثنا میں اس جیت میں پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنا حصہ خوب ڈالا ۔الیکشن والے دن بائکاٹ کا اعلان کر کے باقاعدہ منصوبے کے تحت باغی گروپ(راجہ قاسم) کو ووٹ ڈالا گیا شنید ہے الیکشن سے چند دن پہلے پی ٹی آئی کے ضلعی رہنما اور سابق ٹکٹ ہولڈر نے پی ٹی آئی کے ممبران سے ووٹ پاکستان مسلم لیگ ن باغی گروپ کو ڈلوائے اور اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ جنرل الیکشن میں حلقہ NA62 کے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ٹکٹ ہولڈرموصوف ہوں گئے بات یہاں ختم نہیں ہوئی میونسپل کمیٹی کے چئیرمین کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب مرزا راشد ندیم اور آزاد حثیت سے خادم اللہ بٹ آمنے سامنے تھے لیکن اس میں بھی 5 پی ٹی آئی کے کونسلروں نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر شیروں سے خوب داد وصول کی ۔انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے زرائع کے مطابق راجہ یاور کمال بہت جلد پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہونے لگے ہیں اگر ایسا ہو جاتا ہے حکمران جماعت گھرمالا گروپ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پی ٹی آئی کے ایک گروپ کے جہلم میں حالات مخدوش ہو جایءں گئے ۔لہذہ یہ سیاسی ارتعاش آمدہ انتخابات تک ہو سکتا ہے مگر اس منظر نامے کو

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow