افغانستان میں تین دن کی جنگ بندی کے اختتام پر کابل حکومت کی جانب سے اس میں توسیع کے یک طرفہ اعلان اور امن مذاکرات کی پیشکش کو امریکی وزیر خارجہ نے سراہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے اس جنگ بندی میں توسیع سے اتفاق نہیں کیاہے۔ لیکن واشنگٹن، کابل اور پاکستان میں تجزیہ کاروں اور ماہرین کا خیال ہے کہ تین دن  کی جنگ بندی سے بہتر ماحول بن گیا ہے جس میں مزید پیش رفت کے امکانات ہیں۔ ممتاز امریکی اسکالر ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جنگ بندی سے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر لی تھیں لیکن طالبان نےشروع ہی سے واضح کردیا  تھا کہ اس بات سے قطع نظر کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے یا کررہی ہے، جنگ بندی ہوگی یا نہیں، کب اور کیسے ہو گی، یہ ان کا فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا طالبان یہ تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں کہ کام ان کے کہنے کے مطابق ہو گا، حکومت کے کہنے کے مطابق نہیں۔ افغان صحافی اور تجزیہ کار انیس الر حمن نے کہا کہ ننگر ہار اور جلال آباد میں کل اور آج کے حملے بتاتے ہیں کہ ایسی قوتیں موجود ہیں جو افغان امن کے عمل کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ  اول تو دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، دوسرے افغان عوام کا بھی طالبان پر  امن کے لئے دباؤ ہے جسے طالبان کو بہرحال قبول کرنا ہی ہو گا۔ افغان امور کے ایک اور ماہر عقیل یوسفزئی کا بھی یہی کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے لئے فریقین میں رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور خود طالبان میں بھی دد دھڑے ہیں جن میں سے ایک نرم خو ہے اور دوسرا متشدد ہے اور نرم خو طالبان جو اکثریت میں ہیں امن اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ ان کی اطلاعات کے مطابق جلد ہی طالبان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی  اقدامات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ اس بارے میں ماہرین سے قمر عباس جعفری کی بات چیت کی ریکارڈنگ سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں۔  

افغانستان میں جنگ بندی ہو گی یا نہیں، فیصلہ طالبان کریں گے

افغانستان میں تین دن کی جنگ بندی کے اختتام پر کابل حکومت کی جانب سے اس میں توسیع کے یک طرفہ اعلان اور امن مذاکرات کی پیشکش کو امریکی وزیر خارجہ نے سراہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے اس جنگ بندی میں توسیع سے اتفاق نہیں کیاہے۔ لیکن واشنگٹن، کابل اور پاکستان میں تجزیہ کاروں اور ماہرین کا خیال ہے کہ تین دن  کی جنگ بندی سے بہتر ماحول بن گیا ہے جس میں مزید پیش رفت کے امکانات ہیں۔ ممتاز امریکی اسکالر ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جنگ بندی سے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر لی تھیں لیکن طالبان نےشروع ہی سے واضح کردیا  تھا کہ اس بات سے قطع نظر کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے یا کررہی ہے، جنگ بندی ہوگی یا نہیں، کب اور کیسے ہو گی، یہ ان کا فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا طالبان یہ تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں کہ کام ان کے کہنے کے مطابق ہو گا، حکومت کے کہنے کے مطابق نہیں۔ افغان صحافی اور تجزیہ کار انیس الر حمن نے کہا کہ ننگر ہار اور جلال آباد میں کل اور آج کے حملے بتاتے ہیں کہ ایسی قوتیں موجود ہیں جو افغان امن کے عمل کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ  اول تو دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، دوسرے افغان عوام کا بھی طالبان پر  امن کے لئے دباؤ ہے جسے طالبان کو بہرحال قبول کرنا ہی ہو گا۔ افغان امور کے ایک اور ماہر عقیل یوسفزئی کا بھی یہی کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے لئے فریقین میں رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور خود طالبان میں بھی دد دھڑے ہیں جن میں سے ایک نرم خو ہے اور دوسرا متشدد ہے اور نرم خو طالبان جو اکثریت میں ہیں امن اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ ان کی اطلاعات کے مطابق جلد ہی طالبان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی  اقدامات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ اس بارے میں ماہرین سے قمر عباس جعفری کی بات چیت کی ریکارڈنگ سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں۔  

x

Check Also

’پاکستان اور ایران کا باہمی فوجی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق’

ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل باقری نے پیر کے روز پاکستان فوج کے ہیڈکوارٹرز میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، پاکستان و ایران کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون اور بارڈر مینجمنٹ کے امور زیر بحث آئے

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow