ٹیکساس کے سکول میں شوٹنگ کے دوران ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے والد نے اُمید ظاہر کی ہے کہ اُن کی بیٹی کی موت کے نتیجے میں امریکہ میں گن کنٹرول کے حوالے سے اصلاحات کا عمل شروع ہونے میں مدد ملے گی۔ ہیوسٹن کے جنوب مغرب میں واقع سینتا فے سکول میں جمعہ کے روز ہونے والی شوٹنگ کے نتیجے میں 8 طالب علم اور 2 ٹیچر ہلاک ہو گئے تھے جن میں 17 سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی شامل تھیں۔ اُن کے والد عزیز شیخ نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا  کہ سبیکا کی موت امریکہ میں گن کنٹرول کے قانون کو تبدیل کرنے کے کے سلسلے میں ایک مثال بن سکتی ہے۔ بہت سے پاکستانی نوجوان بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں کئی لوگوں کیلئے  امریکہ ایک پسندیدہ ملک ہے۔ عزیز شیخ نے کہا کہ جب اُنہوں نے اپنی بیٹی کو تعلیم کیلئے امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ امریکہ میں شوٹنگ کا شکار ہو جائے گی۔ تاہم اب وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بیٹی کی موت سے تبدیلی کا عمل شروع ہو۔ سینتا فے سکول کے طلبا کا کہنا ہے کہ شوٹنگ کرنے والا طالب علم دی میتریو پاگورٹزز صبح آٹھ بجے سے کچھ پہلے آرٹ کی کلاس میں داخل ہوا اور وہاں اُس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے دس افراد ہو ہلاک کر دیا۔ سبیکا امریکی محکمہ خارجہ کے YES ایکسچینج پروگرام کے تحت منتخب ہو کر امریکہ آئی تھیں۔ اس پروگرام کے تحت مسلم اکثریتی ممالک سے طالب علموں کو سکالرشپ پر ایک سال کیلئے پڑھنے کی خاطر امریکہ بلایا جاتا ہے۔ سبیکا کے والد نے بتایا کہ اُسے ٹیکسا س میں آ کر پڑھنا بےحد پسند تھا اور وہ سکول کا تعلیمی سال مکمل ہونے کے بعد 9 جون کو واپس پاکستان روانہ ہونے والی تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ہفتے کے روز ایک بیان میں سبیکا کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’سبیکا امریکہ اور اپنے وطن پاکستان کے درمیان رابطے بڑھانے  میں مدد کر رہی تھیں۔‘‘ اُن کے والد کا کہنا ہے کہ سبیکا تعلیم مکمل کرنے کے بعد فارن سروس یا سول سروس میں ملازمت کرنا چاہتی تھیں ۔ پاکستان میں امریکی  سفارتخانے کے ایک بیان کے مطابق امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کراچی میں سبیکا کے گھر جا کر اُن کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

’’سبیکا کی موت گن کنٹرول قانون میں تبدیلی کا باعث بنے‘‘

ٹیکساس کے سکول میں شوٹنگ کے دوران ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے والد نے اُمید ظاہر کی ہے کہ اُن کی بیٹی کی موت کے نتیجے میں امریکہ میں گن کنٹرول کے حوالے سے اصلاحات کا عمل شروع ہونے میں مدد ملے گی۔

ہیوسٹن کے جنوب مغرب میں واقع سینتا فے سکول میں جمعہ کے روز ہونے والی شوٹنگ کے نتیجے میں 8 طالب علم اور 2 ٹیچر ہلاک ہو گئے تھے جن میں 17 سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی شامل تھیں۔

اُن کے والد عزیز شیخ نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سبیکا کی موت امریکہ میں گن کنٹرول کے قانون کو تبدیل کرنے کے کے سلسلے میں ایک مثال بن سکتی ہے۔

ہیوسٹن میں لوگ سخت گن کنٹرول کے حق میں یادداشت پر دستخط کر ہے ہیں

ہیوسٹن میں لوگ سخت گن کنٹرول کے حق میں یادداشت پر دستخط کر ہے ہیں

بہت سے پاکستانی نوجوان بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں کئی لوگوں کیلئے امریکہ ایک پسندیدہ ملک ہے۔ عزیز شیخ نے کہا کہ جب اُنہوں نے اپنی بیٹی کو تعلیم کیلئے امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ امریکہ میں شوٹنگ کا شکار ہو جائے گی۔ تاہم اب وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بیٹی کی موت سے تبدیلی کا عمل شروع ہو۔

سینتا فے سکول کے طلبا کا کہنا ہے کہ شوٹنگ کرنے والا طالب علم دی میتریو پاگورٹزز صبح آٹھ بجے سے کچھ پہلے آرٹ کی کلاس میں داخل ہوا اور وہاں اُس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے دس افراد ہو ہلاک کر دیا۔

ہیوسٹن میں سبیکا کی ہوسٹ فیملی کی رکن اور ہم جماعت جولین کوگبرن اشکبار

ہیوسٹن میں سبیکا کی ہوسٹ فیملی کی رکن اور ہم جماعت جولین کوگبرن اشکبار

سبیکا امریکی محکمہ خارجہ کے YES ایکسچینج پروگرام کے تحت منتخب ہو کر امریکہ آئی تھیں۔ اس پروگرام کے تحت مسلم اکثریتی ممالک سے طالب علموں کو سکالرشپ پر ایک سال کیلئے پڑھنے کی خاطر امریکہ بلایا جاتا ہے۔

سبیکا کے والد نے بتایا کہ اُسے ٹیکسا س میں آ کر پڑھنا بےحد پسند تھا اور وہ سکول کا تعلیمی سال مکمل ہونے کے بعد 9 جون کو واپس پاکستان روانہ ہونے والی تھیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ہفتے کے روز ایک بیان میں سبیکا کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’سبیکا امریکہ اور اپنے وطن پاکستان کے درمیان رابطے بڑھانے میں مدد کر رہی تھیں۔‘‘

اُن کے والد کا کہنا ہے کہ سبیکا تعلیم مکمل کرنے کے بعد فارن سروس یا سول سروس میں ملازمت کرنا چاہتی تھیں ۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے ایک بیان کے مطابق امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کراچی میں سبیکا کے گھر جا کر اُن کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

x

Check Also

پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کی آمد اور مشکلات میں اضافہ

محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے جنگ بندی لائن پر کشیدگی کے بعض واقعات کے باوجود کہ گزشتہ برس پاکستانی کشمیر کی سیاحت پر 15 لاکھ سے زیادہ افراد آئے تھے جن میں سے 40 فی صد کی منزل وادی نیلم تھی۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow