ریپبلیکن کمیٹی کے سربراہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ’’ہمیں حاصل کردہ نتائج سے اختلاف کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس نے 2016ء کے ہمارے انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی‘‘

روس نے 2016ء کے انتخابات میں مداخلت کی، سینیٹ پینل کا امریکی انٹیلی جنس کے نتیجے سے اتفاق

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیرمین، رچرڈ بَر نے کہا ہے کہ اُن کی کمیٹی کی چھان بین سے پتا چلتا ہے کہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مدد کے لیے روس نے مداخلت کی تھی، جس سےامریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی تحقیقات کی تصدیق ہوتی ہے۔

ریپبلیکن کمیٹی کے سربراہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ’’ہمیں حاصل کردہ نتائج سے اختلاف کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس نے 2016ء کے ہمارے انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی‘‘۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے، کمیٹی کے نائب سربراہ، مارک وارنر نے انٹیلی جنس کمیونٹی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’’روسی کوشش وسیع تر، جدید اور خود صدر (ولادیمیر) پوٹن کے حکم پر کی گئی، جس کا مقصد ڈونالڈ ٹرمپ کی مدد کرنا اور ہیلری کلنٹن کو فائدہ پہنچانا تھا‘‘۔

بَر نے کہا کہ پینل کے اس نتیجے تک پہنچنے کے پیچھے عملے کے ارکان 14 ماہ تک ’’ذرائع، حاصل کردہ مہارت اور تجزیاتی کام کا جائزہ لیتے رہے‘‘۔

اس اعلان سے چند ہی گھنٹے قبل سینیٹ کی کمیٹی برائے عدلیہ نے 2500 صفحات پر مشتمل مواد جاری کیا جو جون 2016ء میں ڈونالڈ ٹرمپ کے نمائندوں اور روسیوں کے ایک گروپ کے درمیان ملاقات کے بارے میں ہے، جس میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ری پبلیکن پارٹی کی قیادت والی کمیٹی نے شہادت، رقعہ اور اطلاع کے دیگر ذرائع پر مشتمل مواد جاری کیا جو اُن آٹھ افراد سے اکٹھا کیا گیا جنھوں نے نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں ہونے والی اُس ملاقات میں شرکت کی تھی۔

ہیلری کو نقصان پہنچانے کے بارے میں اطلاعات ٹرمپ کے بیٹے، ڈونالڈ جونیئر؛ اور ٹرمپ کے دیگر نمائندگان کو دی جانی تھیں۔

اس ملاقات کی چھان بین خصوصی کونسل رابرٹ مولر کر رہے ہیں، جو اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم کا روس سے گٹھ جوڑ تھا کہ 2016ء کا صدارتی انتخاب جیتا جائے، یا ٹرمپ نے انصاف کی راہ میں روڑے اٹکائے۔

متن سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ گذشتہ سال ٹرمپ جونیئر نے عدلیہ سے متعلق کمیٹی کو بتایا تھا کہ اُنھیں یہ بات یاد نہیں آیا اُنھوں نے روس کی تفتیش سے متعلق اپنے باپ سے کوئی بات کی ہے۔ ٹرمپ جونیئر نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس ملاقات میں کوئی نامناسب بات ہوئی تھی۔

ٹرمپ جونیئر کے علاوہ اس ملاقات میں صدر کے داماد جیرڈ کوشنر؛ اُس وقت کی انتخابی مہم کے منیجر پال مانافورٹ؛ اور روسی وکیل نتالیا ویزلنتکایا موجود تھیں۔ اجلاس میں روس امریکہ لابیئسٹ، رینات اخمنشن بھی شریک تھے، جنھوں نے عدالت کے لیے ویزلنتکایا، آئیکے کاولز، جن کا تعلق جورجیا کے سابق سویت جمہوریہ سے ہے اور وہ کاروباری شخص ہیں؛ اور برطانوی لابیئسٹ اور موسیقی کے پروموٹر، روب گولڈ سٹون، جنھوں نے اس ملاقات کے انعقاد میں مدد کی تھی۔

x

Check Also

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی آن لائین ٹرولنگ اور اس کے آزادی اظہار پر اثرات

’’میرے ساتھ ایسے واقعات 2012 سے ہو رہے ہیں جب پاکستان سائبر فورس نام کے فیس بک اکاؤنٹ نے میرے گھر والوں کا نام، میری ساری نجی معلومات فیس بک پر ڈال دی تھیں اور اور شوٹ ایٹ سائٹ کا مطالبہ لکھ دیا‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow