جھڑپ کے دوران مظاہرین پر فوج کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک۔ اٹھارہ زخمی

بھارتی کشمیر میں تازہ جھڑپ، دو مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں پیر کو پیش آئی ایک جھڑپ کے دوران عسکری تنظیم حزب المجاہدین کا ایک مقامی کمانڈر سمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر اور اُس کا قریبی ساتھی عاقب مشتاق خان مارے گئے۔

عہدیداروں نے کہا کہ جھڑپ اُس وقت شروع ہوئی جب فوج، نیم فوجی دستوں اور مسلح پولیس نے گرمائی صدر مقام سرینگر سے 45 کلو میٹر جنوب میں واقع پلوامہ کے دربگام گاؤں کا محاصرہ کر کے وہاں موجود عسکریت پسندوں کو زندہ یا مردہ پکرنے کے لئے آپریشن شروع کردیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ علاقے میں محصور عسکریت پسندوں نے حفاظتی دستوں پر خود کار ہتھیاروں اور دستی بموں سے وار کیا اور نتیجتا” فوج کا ایک میجر اور ایک سپاہی زخمی ہو گئے۔ بعد میں طرفین کے درمیان کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں دو عسکریت پسند کام آگئے۔

شورش زدہ ریاست کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا۔”دربگام پلوامہ میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران پیش آئے مقابلے میں حزب المجاہدین کے دو دہشت گرد مارے گئے جن میں ایک اعلیٰ کمانڈر سمیر ٹائیگر بھی شامل ہے جو کئی شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ اس سے علاقے میں امن آنا چاہیے”۔

سرینگر میں شام کو پولیس کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سمیر ٹائیگر آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا جب اُس نے پڑھائی میں عدم دلچسپی کی بنا پر اسکول جانا بند کر دیا تھا اور پھر پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں پر پتھراؤ کرنے والی سرگرمی کا حصہ بن گیا۔ بعد میں اس نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح دستوں کی طرف سے علاقے کو گھیرے میں لئے جانے کے ساتھ ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں نوجوان اور نو عمر لڑکے ہر اول دستے کے طور پر شامل تھے سڑکوں پر آگئے اور پھر بھارت سے آزادی کے مطالبے اور عسکریت پسندوں کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے اُس مقام کی طرف پیش قدمی کرنے لگے جہاں حزب المجاہدین کے محصور جنگجوؤں اور فوج کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا۔

حفاظتی دستے ان کے راستے میں آ گئے اور اشک آور گیس کا استعمال کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ نوجوانوں نے مشتعل ہو کر حفاظتی دستوں پر مبینہ طور پر سنگباری شروع کی اور جیسا کہ عہدیداروں نے الزام لگایا ہے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ ان میں سے ایک اٹھارہ سالہ شاہد اشرف ڈار کو جب پلوامہ کے ضلع اسپتال لایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیدیا۔ اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ عبد الرشید پّرہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ڈار آتشیں اصلحے کے استعمال کے نتیجے میں گھمبیر طور پر زخمی ہوا تھا اور جب اسے اسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی لقمہء اجل بن چکا تھا۔

پولیس اور اسپتال ذرائع کے مطابق مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان دربگام اور اس کے مضافات میں دن بھر جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران اٹھارہ شہری اور کئی حفاظتی اہلکار زخمی ہو گئے۔

پولیس بیان میں تاہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ اٹھارہ سالہ شاہد ڈار عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہونے والے گولیوں کے تبادے کی زد میں آکر ہلاک ہوا اور چند افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں اور استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد ‘مشترکہ مزاحمتی قیادت’ نے فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں پر مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

‘مشترکہ مزاحمتی قیادت’ نے ہلاکتوں کے خلاف منگل کو وادئ کشمیر میں عام ہڑتال کرنے کی اپیل جاری کر دی ہے جس کے پیشِ نظر کئی تعلیمی اداروں میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وادئ کشمیر میں ٹرین سروسز معطل کر دی گئی ہیں اور پلوامہ میں انٹرنیٹ سہولیات “حفظِ ما تقدم ” کے طور پر روک دی گئی ہیں۔

اس دوران، پیر کی رات نامعلوم مسلح افراد نے شمال مغربی شہر بارہ مولہ میں تین افراد پر نزدیک سے گولیاں چلا کر انہیں ہلاک کر دیا۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ بارہ مولہ کے ککر حمام محلے میں پیش آیا۔

قتل کئے گئے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کے لئے عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ تاہم، تاحال بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسند تنظیموں میں سے کسی نے بھی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

x

Check Also

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی آن لائین ٹرولنگ اور اس کے آزادی اظہار پر اثرات

’’میرے ساتھ ایسے واقعات 2012 سے ہو رہے ہیں جب پاکستان سائبر فورس نام کے فیس بک اکاؤنٹ نے میرے گھر والوں کا نام، میری ساری نجی معلومات فیس بک پر ڈال دی تھیں اور اور شوٹ ایٹ سائٹ کا مطالبہ لکھ دیا‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow