تحریکِ لبیک کے رہنماؤں نے فیض آباد معاہدے میں درج نکات پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو 12 اپریل کی شام تک حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

حکومت سے مذاکرات کامیاب، تحریکِ لبیک نے دھرنے ختم کردیے

تحریکِ لبیک کے رہنماؤں نے فیض آباد معاہدے میں درج نکات پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو 12 اپریل کی شام تک حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت اور مذہبی سیاسی جماعت ‘تحریکِ لبیک یا رسول اللہ’ کے درمیان جمعرات کی شب ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد تنظیم نے تمام مقامات سے دھرنا ختم کر دیا ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صوبائی حکومت اور تحریکِ لبیک کے رہنماؤں کے درمیان اس سے قبل مذاکرات کے تین دور ہوئے تھے جو ناکام رہے تھے۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے جمعرات کی شام لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، ساہیوال، ملتان، کراچی اور پشاور سمیت کئی دیگر شہروں میں مختلف مقامات پر دھرنا دے دیا تھا۔

تاہم رات گئے لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا صاحب کے دربار کے سامنے والی سڑک پر جاری دھرنے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں ‘تحریکِ لبیک یا رسول اللہ’ کی مجلسِ شوریٰ نے ملک بھر سے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکومت ان کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد فیض آباد معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر تیار ہو گئی ہے اور تمام مطالبات منظور کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیض آباد میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے تحریک کے کارکنوں کے قتل کا مقدمہ راولپنڈی میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ حکومت مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تمام مقدمات خارج کرنے پر بھی آمادہ ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ شائع کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے اور تحقیقاتی کمیٹی کی بنائی گئی رپورٹ قائدین کو مل گئی ہے جس کے بعد دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔

مذہبی جماعت کے قائدین نے کہا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو نمازِ جمعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا جاتا۔

خادم رضوی کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی دھرنے ختم کر دیے ہیں جس کے بعد احتجاج سے متاثرہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی ہے۔

ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر خادم رضوی نے اپنے ساتھیوں سمیت گزشتہ سال نومبر میں 22 روز تک اسلام آباد کے ایک مرکزی داخلی راستے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا جو فوج کی ثالثی میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا تھا۔

تحریکِ لبیک کے رہنماؤں نے معاہدے میں درج نکات پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو 12 اپریل کی شام تک حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت فیض آباد دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں خادم رضوی اور ان کے کئی ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے لیکن انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

x

Check Also

پال رائن نومبر میں دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے

رائن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں نے اس عہدے کے لیے ہر چیز حوالے کی ہے، اور مجھے اس بات پر کوئی معذرت نہیں کہ میں نے یہ ذمے داری کیوں قبول کی۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ یہ ذمہ داری زندگی کی ہر چیز چھین لیتی ہے‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow