حزب مخالف کی جماعتیں اس موقف پر قائم ہیں کہ حکومت کو  آئندہ مالی سال کے بجٹ کا معاملہ آئندہ منتخب ہو کر آنے والی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے اور اگر وہ چاہیے تو صرف چند ماہ کا بجٹ پیش کر سکتی ہے۔

حکومت کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں : حز ب مخالف

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ جب موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے اسے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

موجودہ حکومت کی مدت آئندہ ماہ کے آخر میں ختم ہو جائے گی لیکن حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ اس سے پہلے مالی سال 2017-2018ءکا بجٹ پیش کر دے گی۔

حزب مخالف کی جماعتیں حکومت کی اس اقدام پر اپنے تحفظات ک اظہار کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ حکومت کے پاس آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے اور اسے یہ معاملہ آئندہ حکومت پرچھوڑ دینا چاہیے۔

دوسری طرف حکومت حزب مخالف کی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور اس معاملے پر ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں جمعرات کو قومی اسبملی کے اسپیکر ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں سے بجٹ اور دیگر امور پر بات چیت کی اس موقع پر وزارت خزانہ کے اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔

تاہم حزب مخالف کی جماعتیں اس موقف پر قائم ہیں کہ حکومت کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا معاملہ آئندہ منتخب ہو کر آنے والی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے اور اگر وہ چاہیے تو صرف چند ماہ کا بجٹ پیش کر سکتی ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا اگر حکومت نے ایسا کیا تو ان کی جماعت حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرے گی۔

’ اب حکومت ختم ہونے میں 45 دن رہے گئے اور حکومت پورے مالی سال کا بجٹ پاس کر رہی ہے، اس کا اسے مینڈیٹ نہیں ہے۔ ایک جماعت منشور دے کر اقتدار میں آتی ہے اور یہ پھر اس کا اظہار اس کی بجٹ میں ہوتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ حکومت 45 دن میں آئندہ مالی سال کا بجٹ دے جائے۔ ہم اس کی مخالفت کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک آئندہ سال کا صوبائی بجٹ پیش نہیں کریں گے کیونکہ اس کا انہیں مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار عابد سلہری کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئینی طور پر ایسی کوئی قدغن نہیں ہے کہ جب حکومت کی مدت ختم ہونے میں تھوڑا عرصہ رہ گیا ہو تو وہ ملک کا آئندہ بجٹ پیش نہیں کر سکتی ہے۔

جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ اخلاقی طور پر تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حکومت کو یہ پتا نہیں ہے کہ وہ آئندہ منتخب ہو کر اقتدار میں آئے گی یا نہیں۔ لہذا اخلاقی طور پر انہیں پورے سال کا بجٹ پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی بجائے وہ دو تین ماہ کا مختصر مدت بجٹ پیش کر دیں۔ لیکن قانونی طور پر ایسا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ 30 جون سے پہلے جو بھی حکومت ہو وہ بجٹ پیش کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔‘

عابد سلہر ی نے کہا اگرموجودہ حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر دیتی ہے تو آئندہ منتخب ہو کر آنے والے حکومت اگر اس میں ترمیم کرنا چاہیے تو وہ آئینی طورپر ایسا کرنے کی مجاز ہو گی۔

x

Check Also

ٹوئٹر کو توہین رسالت کا مواد ہٹانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت

سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے معاملے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت تک مواد نہ ہٹایا تو پاکستان میں ٹوئٹر بلاک کر دیں گے‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow