حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سات افراد سوار تھےجو عام نقل و حمل کے مشن پر تھا جب جمعرات کی شام عراق کے مغربی صوبہ ٴانبار میں گر کر تباہ ہوا

عراق: ہیلی کاپٹر گرنے کے واقع میں سات امریکی فوجی اہل کار ہلاک

امریکی فوج نے کہا ہے کہ عراق میں ہیلی کاپٹر گرنے کے ایک واقع میں امریکی فوج کے سات اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔

پینٹاگان نے جمعے کے روز بتایا کہ بظاہر یہ دشمن کی کسی حرکت کا نتیجہ نہیں لگتا، تاہم معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سات افراد سوار تھےجو عام نقل و حمل کے مشن پر تھا جب جمعرات کی شام عراق کے مغربی صوبہ ٴانبار میں گر کر تباہ ہوا۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے: ’’ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعے میں جان دینے والے بہادر فوجیوں کے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ ہیں، جو کل عراق شام سرحد پر گرا۔ ملک کی خدمت بجا لاتے ہوئے اُن کی جانب سے دی جانے والی قربانی کو بھلایا نہیں جائے گا‘‘۔

پینٹاگان نے بتایا ہے کہ اس وقت پرواز کرنے والے دوسرے ہیلی کاپٹر نے واقع کی فوری اطلاع دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری امداد پر مامور فورس جو عراقی سکیورٹی افواج اور امریکی قیادت والے اتحاد کی فوج کے ارکان پر مشتمل ہے، فوری طور پر جائے حادثہ کے قصبے میں پہنچی۔

عراق اور شام میں داعش کے خلاف نبردآزما آپریشنز کے ڈائریکٹر، امریکی بری فوج کے برگیڈیئر جنرل جوناتھن براگا نے کہا ہے کہ ’’ہم عراقی سکیورٹی افواج کے شکر گزار ہیں جنھوں نے اس افسوس ناک واقعے کے بعد فوری مدد فراہم کی‘‘۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow