سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی ثبوت کی عدم دستیابی جب کہ عدم پیروی پر دانیال عزیز کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی خارج کردی ہے۔

سپریم کورٹ: نواز شریف کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست خارج

سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف دائر کی جانے والی توہینِ عدالت کی درخواست خارج کر دی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

عدالت نے وزیرِ مملکت طلال چوہدری پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی ایک روز کے لیے موخر کردی ہے جب کہ وفاقی وزرا سعد رفیق اور دانیال عزیز کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی خارج کر دی ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما شیخ احسن الدین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف نے نااہل ہونے کے بعد جی ٹی روڈ پر تقریر کی جس میں عدالت کی توہین کی گئی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر رائے کا اظہار کرنا شہری کا حق ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اس سے زیادہ کہا ہو۔

انہوں درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جانب سے پیش کیا گیا مواد توہین آمیز نہیں ہے۔ بہت سی چیزوں سے درگزر کر رہے ہیں۔ درخواست گزار نے جو مواد پیش کیا وہ سیاسی ہے۔ شاید اس بیان میں نوازشریف نے حدود کراس نہیں کیں۔ تاہم کسی اور جگہ حدود کراس کی ہوں گی اور کچھ جگہوں پر اس سے بھی زیادہ کہا ہوگا۔

شیخ احسن الدین نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف نے تین کروڑ سے بھی کم ووٹ لیے لیکن وہ اپنے آپ کو 20 کروڑ عوام کا نمائندہ کہلاتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شیخ احسن الدین! توہینِ عدالت کا نوٹس ہم نے لینا ہے، آپ نے نہیں۔

سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی ثبوت کی عدم دستیابی جب کہ عدم پیروی پر دانیال عزیز کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی خارج کردی ہے۔

دریں اثنا جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کی جس کے دوران ان پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی ایک روز کے لیے موخر کردی گئی۔

دورانِ سماعت طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضٰی نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ عدالتی نظیریں پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ مقدمات میں تاخیر سے صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف کیس میں کسی کے حقوق متاثر نہیں ہوئے۔ اگر گستاخی ہے تو عدالت کی شان میں ہے۔ میرے مؤکل نے سخت زبان استعمال نہیں کی۔

اس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ شان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ دن بدن کیس آپ کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔

ملزم کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جنازے میں شرکت کے لیے اجازت مانگی جس پر عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔ کیس کی سماعت کل دوبارہ ہوگی۔

سپریم کورٹ توہینِ عدالت کیس میں وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف فردِ جرم عائد کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے 2 فروری کو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کیس میں پانچ سال کے لیے نااہل قرار دینے کے بعد عدلیہ مخالف تقاریر پر از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ مملکت طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو بھی نوٹس جاری کیے تھے۔

طلال چوہدری نوٹس ملنے کے بعد اپنے بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی توہینِ عدالت نہیں کی اور نہ ہی اُن کے بیانات توہینِ عدالت کی نیت سے تھے۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow