دفترِ خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ طور پر بھارتی ریاستی (انٹیلی جنس) ایجنسیوں کی طرف سے حالیہ دنوں میں ایسے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

بھارت میں سفارتی عملے اور ان کے بچوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے: پاکستان

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد بار باضابطہ طور پر مطلع اور احتجاج کیے جانے کے باوجود بھارت میں اس کے سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے۔

بدھ کو دفترِ خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ طور پر بھارتی ریاستی (انٹیلی جنس) ایجنسیوں کی طرف سے حالیہ دنوں میں ایسے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

بیان میں چند واقعات کی تفصیل بھی فراہم کی گئی ہے جن میں سفارتی عملے کے اسکول سے گھر جانے والے بچوں کا پیچھا کیے جانے اور انھیں ہراساں کرنے کے علاوہ عملے کے دیگر ارکان اور ہائی کمیشن کے لیے کام کرنے والوں کو ہراساں کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق نو مارچ کو ہائی کمیشن میں تعینات بحری امور کے مشیر کی گاڑی کا جارحانہ انداز میں پیچھا کیا گیا جب کہ اسی روز سیاسی قونصلر کو بھی نامعلوم افراد نے ایک ٹیکسی سے زبردستی باہر نکالا اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھمکیاں دیں اور اس سارے واقعے کو عکس بند بھی کیا۔

مزید برآں ہائی کمیشن کے رہائشی کمپلیکس کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی کو بھی مبینہ طور پر بند کیا گیا جب کہ ہائی کمیشن کے لیے کام کرنے والے تیکنیکی عملے کو بھی کام سے روکتے ہوئے دھمکیاں دی گئیں۔

بیان کے مطابق قونصلر کے بچوں کو اسکول سے لانے والی گاڑی کا کاروں اور موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے راستہ روکا جب کہ خوفزدہ بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔

بیان کے مطابق ان معاملات پر اسلام آباد میں تعینات نائب بھارتی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترِ خارجہ طلب کر کے ان سے باضابطہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے ویانا کنونشن کے تحت سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

تاحال بھارت کی طرف سے پاکستان کے ان دعوؤں پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان ماضی میں ایک دوسرے پر ایسے ہی الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow