جم میٹس نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ کامیابی میدانِ جنگ ہی میں ملے بلکہ یہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت میں سہولت کاری سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع کا کابل کا غیر اعلانیہ دورہ

امریکہ کے وزیرِ دفاع جم میٹس منگل کو غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے ہیں، جہاں وہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے سینئر کمانڈروں اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کریں گے۔

کابل آمد سے کچھ دیر قبل اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو میں جم میٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کامیابی اب بھی ممکن ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جم میٹس نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ کامیابی میدانِ جنگ ہی میں ملے بلکہ یہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت میں سہولت کاری سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

جم میٹس ریٹائرڈ جنرل ہیں اور اُنھوں نے 2001ء میں جنوبی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کمانڈ کی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا شاید ابھی کچھ دور ہے لیکن آہستہ آہستہ اُنھیں اس جانب لانے پر توجہ مرکوز ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں اس بارے میں طالبان کو بھی دلچسپی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان نے کھلے خط کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی جب کہ صدر اشرف غنی نے گزشتہ ماہ کے اختتام پر ’’کابل پراسس‘‘ نامی بین الاقوامی کانفرنس میں افغان طالبان کو مذاکرات کی غیر مشروط دعوت دی تھی۔

وزیرِ دفاع جم میٹس کا گزشتہ سال اگست کے بعد سے کابل کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست 2017ء میں افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اطلاعات کے مطابق حالیہ ہفتوں میں 800 امریکی فوجی افغانستان پہنچ چکے ہیں۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow