چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سرکاری پیسے کا استعمال پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔ ممکن ہے اراکین کو الیکشن سے قبل فنڈز کا اجرا روک دیں۔

سپریم کورٹ: الیکشن سے قبل ارکانِ پارلیمان کو فنڈز کا اجرا روکنے کا عندیہ

سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہارات کیس کی سماعت کے دوران انتخابات سے پہلے ترقیاتی فنڈز کے اجرا کا نوٹس لیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ارکانِ پارلیمان کو الیکشن سے قبل فنڈز کا اجرا روکا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو سرکاری اشتہارات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے حکام نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں دیے جانے والے اشتہارات کا ریکارڈ پیش کیا۔

سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں صوبائی حکومت نے 24 کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے۔ تاہم ان کے بقول ان تین ماہ کے اشتہارات میں وہ پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویر تلاش نہیں کرسکے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ سرکاری اشتہارات میں سیاسی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومتیں اپنی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں بلکہ سیاسی تشہیر کے لیے اپنا پارٹی فنڈ استعمال کریں۔ سرکاری پیسے سے اشتہار سے پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری اشتہارات کے ذریعے جو اپنی سیاسی تشہیر کی وہ رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرائے۔

چیف جسٹس نے اشتہارات کی تفصیلات پبلک کرنے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ لوگ بتا دیں گے کہ اشتہارات پر عمران خان کی تصاویر تھیں یا نہیں۔ اشتہار کِن میڈیا ہاؤسز کو ملنا چاہیے یہ بھی دیکھنا ہو گا۔

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتی حکم پر سفارشات پیش کی گئیں۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اشتہار ووٹ مانگنے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔ ان کے ذریعے سیاسی تشہیر نہیں ہونی چاہیے اور ان پر سیاسی شخصیات کی تصاویر نہیں ہونی چاہئیں۔ سرکاری منصوبوں سے آگہی عوام کا حق ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ہکہ م چاہتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کی تصاویر اشتہارات میں لگوانا بند کرادیں۔ جو تصاویر لگی ہیں ان کے پیسے پارٹی رہنماؤں سے واپس کرادیں۔ یہ معاملہ ایک دو دن میں حل ہوجائے گا۔ اس پر کام کررہے ہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے انتخابات سے پہلے ترقیاتی فنڈز کے اجرا کا نوٹس لے لیا اور سوال اٹھایا کہ فنڈز کا اجرا کس قانون کے تحت کیا جاتا ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سرکاری پیسے کا استعمال پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔ ممکن ہے اراکین کو الیکشن سے قبل فنڈز کا اجرا روک دیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز ارکان کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومت سے فنڈز کے اجرا کی قانونی حیثیت پوچھ کرعدالت کو آگاہ کریں۔ کیا اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا عمل پری پول (قبل از الیکشن) دھاندلی میں نہیں آتا؟

عدالت نے کیس کی سماعت چار اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت نے کسی کے اشتہارات کو نہیں روکا۔ عدالت نے صرف تصویر والے اشتہار کو بند کیا۔ کسی سیاسی شخصیت کی سرکاری اشتہار پر تصویر نہیں ہو گی۔ اگلے مرحلے میں اشتہارات کی شفاف تقسیم کو بھی دیکھیں گے۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow