وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں کل 1671 پاکستانی عسکری اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں سے 912 سعودی وزارتِ دفاع جب کہ 759 وزارتِ داخلہ کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سعودی عرب میں 1671 پاکستانی سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں: وزارتِ دفاع

پاکستان کی وزارتِ دفاع کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک تعینات پاکستانی عسکری و سکیورٹی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب میں ہے۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے ایک جواب میں وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں کل 1671 پاکستانی عسکری اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں سے 912 سعودی وزارتِ دفاع جب کہ 759 وزارتِ داخلہ کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ان اہلکاروں میں 1395 فوج، 164 بحریہ اور 112 فضائیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

وزارت کے مطابق یہ اہلکار باہمی سمجھوتوں اور معاہدوں کے تحت سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے تحت امن مشنز میں فرائض انجام دینے والے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

سعودی عرب کے علاوہ 629 پاکستانی سکیورٹی اہلکار قطر جب کہ 66 متحدہ عرب امارات میں تعینات ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ ہی فوج کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ مزید فوجی سعودی عرب بھیج رہی ہے جس پر حکومت کو قانون ساز حلقوں کی طرف سے سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے سینیٹ میں اس بارے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات اور تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایوان کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستانی فوجی کسی بھی بیرونی تنازع میں ملوث نہیں ہوں گے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں ان خدشات کا اظہار کرتی آئی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا سعودی عرب میں فوج بھیجنا پڑوسی ملک ایران کی ناراضی کا باعث بنے گا۔

تاہم حکام ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کا کردار غیرجانبدارانہ ہے اور وہ کسی بھی طور خطے میں جاری کشیدگی میں فریق نہیں بنے گا۔

x

Check Also

‘محکمہ انصاف کو انتخابی مہم میں مداخلت کی تفتیش کا حکم دوں گا’

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016ء میں اپنی انتخابی مہم میں ایف بی آئی کے ایک مخبر کی مداخلت کے دعوؤں کی تحقیقات کا حکم دیں گے۔ اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ "میں مطالبہ کرتا ہوں اور کل اس کا باضابطہ حکم بھی دوں گا کہ محکمہ انصاف اس معاملے کو دیکھے کہ آیا ایف بی آئی/محکمہ انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیے ٹرمپ مہم میں مداخلت یا اس نگرانی کی یا نہیں اور اگر آیا ایسا کوئی مطالبہ یا درخواست اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔" بعد ازاں محکمہ انصاف نے اعلان کی کہ اس نے انسپکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کسی مشتبہ شخص کی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کسی بے ضابطگی کا جائزہ لے۔ محکمے کی ترجمان سارہ فلورس نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر کسی نے صدارتی مہم کے شرکا کی نگرانی یا کام میں کسی بھی نامناسب مقصد کے لیے مداخلت کی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔" صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس کے فوراً بعد ہی اوباما انتظامیہ کے سابق ارکان کی طرف سے خدشات کے ساتھ ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ان  کے خیال میں ٹرمپ کی دھمکی امریکی نظام انصاف میں اک سنگین مداخلت کے مترادف ہے، کیونکہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی صدر نے اس وقت برخاست کردیا تھا جب وہ انتخابی مہم کی تحقیقات کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کو ٹرمپ نے یہ شکایت کی تھی کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف ایک مخبر کے ذریعے ان کی صدارتی مہم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس شخص نے ایف بی آئی کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے مہم کے تین شرکا سے رابطہ کیا تھا۔ مختلف خبر رساں ایجنسیوں نے ایک 73 سالہ شخص سٹیفن ہالپر کو بطور مخبر ظاہر کیا ہے جو کہ امریکی شہری ہیں اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ ماضی میں رپبلکنز انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow