بیلفاسٹ میں واقع ’کوئینز یونیورسٹی‘ میں افغانستان اور پاکستان سے متعلق ماہر، مائیکل سیمپل نے کہا ہے کہ ’’فیکلٹی، طالب علم اور مدرسے سے فارغ التحصیل افراد کا متعدد شدت پسند گروپوں سے قریبی تعلق ہے‘‘۔

شدت پسندی کے خلاف لڑائی، ساتھ ہی ’جہاد یونیورسٹی‘ کو سرکاری رقوم کی فراہمی

پاکستان کی نام نہاد ’جہاد یونیورسٹی‘ کے سربراہ وہ شخص ہیں جو اپنے آپ کو ’’بابائے طالبان‘‘ کہلواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کے زیادہ تر بدنام دہشت گرد اُسی تعلیمی ادارے کے فارغ التحصیل ہیں۔

افغان سرحد سے ملحق کشیدگی کے شکار صوبہٴ خیبر پختون خواہ کی حکومت کی جانب سے ادارے کو لاکھوں ڈالر کی امداد ملتی ہے، حالانکہ وفاقی حکومت شدت پسندی سے نبردآزما ہونے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

’دارالعلوم حقانیہ‘ کا دینی مدرسہ، جو شمال مغربی پاکستان میں اکوڑا خٹک کے مقام پر واقع ہے، قدامت پسند اسلام کی تعلیمات اور افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی ایک نسل کو تعلیم دینے کا شہرہ رکھتی ہے، جو پاکستانی طالبان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

حقانیہ کے وسیع و عریض کیمپس میں سفید ٹوپیاں پہنے داڑھی والے تقریباً 3000 نوجوان مرد تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت، پشاور سے تقریباً 50کلومیٹر پر واقع ہے، جو مقام اسلام آباد کے قومی دارالحکومت کے مغرب میں 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یوں، یہ ادارہ دنیا میں اسلامی تعلیم کے سب سے بڑے تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ کے نمائندے، فرود بزحان نے اپنے رپورٹ میں بتایا ہے کہ جیسا کہ تعلیم سے وابستہ کسی اسلامی ادارے سے توقع کی جاتی ہے یہاں طالب علم قرآن حفظ کرتے ہیں، شریعہ کے قانون اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

لیکن، مدرسے کی تعلیمات کی جڑیں سنی دیوبندی تحریک سے جا کر ملتی ہیں، جو بھارت میں 19 صدی کے اواخر میں برطانوی سامراج کے خلاف منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ پُرتشدد جہاد میں حصہ لیں، جس کے نتیجے میں مدرسے کو بُری شہرت حاصل ہے۔

بیلفاسٹ میں واقع ’کوئینز یونیورسٹی‘ میں افغانستان اور پاکستان سے متعلق ماہر، مائیکل سیمپل نے کہا ہے کہ ’’فیکلٹی، طالب علم اور مدرسے سے فارغ التحصیل افراد کا متعدد شدت پسند گروپوں سے قریبی تعلق ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’شاید افغان طالبان کے اس سے سب سے زیادہ روابط ہیں، جو باقاعدہ طور پر نوجوان گریجوئیٹس کی بھرتی کرتے ہیں‘‘۔

مائیکل سیمپل نے کہا کہ ’’یہ کوئی خاص مخفی سرگرمی نہیں ہے۔ ’بلو چپ‘ کے انداز میں بھرتی کی جاتی ہے، جس کے لیے کمپنیاں ’گریجوئیٹ بھرتیوں کے میلے‘ منعقد کرتی ہیں‘‘۔

x

Check Also

پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کی آمد اور مشکلات میں اضافہ

محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے جنگ بندی لائن پر کشیدگی کے بعض واقعات کے باوجود کہ گزشتہ برس پاکستانی کشمیر کی سیاحت پر 15 لاکھ سے زیادہ افراد آئے تھے جن میں سے 40 فی صد کی منزل وادی نیلم تھی۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow