ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کے پانچ سینیٹرز بھی صادق سنجرانی کو ووٹ دیں گے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے یہ ووٹ ن لیگ کے تصور کیے جارہے تھے۔

سینیٹ چیئرمین کے لیے راجہ ظفرالحق اور صادق سنجرانی مدِ مقابل

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا ‘سینیٹ’ کے 52 نو منتخب ارکان نے پیر کو ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے جب کہ ایوان کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی پیر کو عمل میں آئے گا۔

مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے راجہ ظفر الحق کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا ہے جن کا مقابلہ بلوچستان سے منتخب آزاد سینیٹر صادق سنجرانی سے ہوگا جنہیں بلوچستان کے آزاد سینیٹروں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل ہے۔

ڈپٹی چیئرمین کی نشست پر حکمران اتحاد کے امیدوار عثمان کاکڑ ہیں جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سلیم مانڈوی والا سے ہوگا۔

پیر کو سیکریٹری سینیٹ کی زیرِ صدارت ایوان بالا کے اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا تو سیکرٹری نے قواعد کے مطابق صدارت کی ذمہ داری پریزائیڈنگ افسر سردار یعقوب ناصر کو سونپی۔

سردار یعقوب ناصر نے نو منتخب 52 ارکان سے حلف لیا۔ حلف برداری کے بعد نو منتخب ممبران نے سینیٹ رول آف ممبرز اور حاضری رجسٹر پر دستخط کیے۔

سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار بھی تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے لیکن بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے وہ پیر کو حلف اٹھانے کے لیے ایوان میں نہیں آئے۔

البتہ مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر اسد اشرف نے نہال ہاشمی کی نا اہلی سے خالی ہونے والی نشست پر سینیٹ کی رکنیت حلف اٹھایا۔

اسحاق ڈار سمیت 52 سینیٹرز چھ سال کے لیے ملک کے ایوانِ بالا کے رکن بنے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسد اشرف تین سال کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

ارکان کی حلف برداری کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوا جس کے لیے امیدواروں نے دوپہر 12 بجے تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔

کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد پیر کی شام ہی ایوان میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق کو چیئرمین کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔

ن لیگ ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار کے انتخاب کا اختیار اپنی اتحادی جماعتوں – نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) – کو دیا تھا جنہوں نے ‘پی کے میپ’ کے سینیٹر عثمان کاکڑ کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

ن لیگ کے رہنما مشاہد اللہ خان نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ جماعتِ اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی ان کے امیدواروں کو ووٹ دیں گی جب کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی حمایت کے حصول کے لیے ان سے رابطے جاری ہیں۔

مسلم لیگ (ن) یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ اسے چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنا امیدوار منتخب کرانے کے لیے درکار 53 ارکان سے کہیں زیادہ سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کے پانچ سینیٹرز بھی صادق سنجرانی کو ووٹ دیں گے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے یہ ووٹ ن لیگ کے تصور کیے جارہے تھے۔

دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد سینیٹر صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا امیدوار ہوں گے جن کی تحریکِ انصاف نے بھی حمایت کردی ہے۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow