اس واقعے کے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی جہاں اس حرکت کی مذمت کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس پر داد دینے والوں کی خاصی بڑی تعداد بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی۔

‘جوتے چلانا معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا عکاس’

حالیہ ہفتوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف عوامی تقاریب کے دوران ناپسندیدگی کے اظہار کے طور پر جو رویہ سامنے آیا ہے اس پر سوشل میڈیا میں تو ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن سیاسی اور غیر جانب دار حلقوں کی طرف سے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویش ناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

اتوار کو لاہور میں ایک مذہبی درس گاہ ‘جامعہ نعیمیہ’ کی طرف سے منعقدہ تقریب میں جب ملک کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف خطاب کرنے کے لیے روسٹرم پر آئے تو سامنے بیٹھے افراد میں سے ایک شخص نے ان پر جوتا پھینکا جو ان کے کان کو چھوتا ہوا پیچھے جا گرا۔

تقریب میں موجود دیگر افراد اور سکیورٹی کے عملے نے اس شخص کو فوراً دبوچ لیا اور اسے مارتے پیٹتے تقریب سے باہر لے گئے۔ مذکورہ شخص نے جوتا پھینک کر ‘لبیک یا رسول اللہ’ کا نعرہ بھی بلند کیا۔

مذکورہ شخص کا نام منور بتایا گیا ہے جو کہ جامعہ نعیمیہ کا ہی ایک سابق طالبِ علم ہے۔ پولیس نے منور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

واقعے کے بعد جامعہ نعیمیہ کے مہتمم علامہ راغب نعیمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ اسلام عزت کا درس دیتا ہے اور اختلاف رائے کے اظہار کا یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔

اس واقعے کے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی جہاں اس حرکت کی مذمت کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس پر داد دینے والوں کی خاصی بڑی تعداد بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی۔

ملک کی تقریباً سب ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کی مذمت سامنے آئی ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین ن لیگ کی عوامی مقبولیت کو دیکھ کر اب “اوچھے ہتھکنڈوں” پر اتر آئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر اس وقت ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی جب وہ سیالکوٹ میں اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔

اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال بھی ایک تقریب میں جوتے کے حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔

معروف ماہرِ تعلیم اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ڈاکٹر اے ایچ نیّر کہتے ہیں کہ یہ واقعات معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رویے کا اظہار ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا، “عدم برداشت جہاں کہیں بھی ہوگی وہاں لوگ اسی قسم کی چیزیں کریں گے۔ یہ تو پھر بھی اتنی پرتشدد چیز نہیں ہے۔ دوسرے لوگ جو دہشت گردی کرتے ہیں، دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور توہینِ مذہب کے نام پر وہ عدم برداشت کی انتہائی حد تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔”

ڈاکٹر نیّر نے کہا کہ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ قوانین کی موجودگی میں بھی لوگ عدم برداشت کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو عدم برداشت کے رویوں سے روکنے کے لیے آواز بلند کریں۔

ان کے بقول اگر رہنماؤں کی طرف سے ایسا نہیں ہوا تو لوگ سمجھیں گے کہ ایسی حرکتیں کرنے سے انھیں اپنے رہنماؤں کی طرف سے شاید شاباش ملے گی۔

اتوار کو ہی فیصل آباد میں ایک جلسے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر بھی ایک شخص نے جوتا پھینکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

اس سے قبل بھی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سیاسی رہنماؤں کو جوتے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر بھی ایک شخص نے جوتا پھینکا تھا جب کہ کراچی میں ایک خاتون نے سندھ اسمبلی کے احاطے میں سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے چہرے پر جوتا دے مارا تھا۔

امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش، سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد، سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور آسٹریلیا کے سابق وزیرِ اعظم جان ہارورڈ بھی ایسے واقعات کا سامنا کر چکے ہیں۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow