ہلاک ہونے والے عسکریت پسند عیسیٰ کے والد نعیم فاضلی ایک کالج کے پرنسپل ہیں اور انہوں نے اپنی فیس بُک ٹائم لائن پر لکھا ہے، "باوثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ میرا بیٹا عیسیٰ فاضلی جنت سدھار گیا۔ انا لله وانا اليه راجعون۔"

بھارتی کشمیر میں پھر کشیدگی، سرینگر میں کرفیو نافذ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تین مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد صورتِ حال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ہے۔

کشیدگی کے پیشِ نظر وادی کے گرمائی صدر مقام سرینگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جب کہ سرینگر ضلعے کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔

پوری وادی کشمیر میں بورڈ اور یونیورسٹی سطح پر پیر کو لیے جانے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مظاہروں اور تشدد کے خدشے کے پیشِ نظر اُٹھائے گئے ہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب جنوبی ضلعے اننت ناگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران تین مبینہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے بعد مسلم اکثریتی وادی میں صورتِ حال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہاکورہ کے علاقے میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کا تعلق غالباً ایک بڑی مقامی عسکری تنظیم سے ہے جس کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق دو شدت پسندوں کی شناخت عیسیٰ فاضلی اور سید اویس کے طور پر ہوئی ہے جبکہ تیسرے نوجوان کی شناخت کرائی جارہی ہے۔

تینوں مبینہ عسکریت پسندوں کی ایسی فائل تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں جن میں انہیں مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم ‘دولتِ اسلامیہ’ (داعش ) کی ٹی شرٹس پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک تصویر میں عیسیٰ فاضلی ‘اے کے 47’ بندوق کے ساتھ داعش کے ایک بینر کے قریب کھڑا ہے جب کہ اس تصویر میں اُس نے داعش کی ٹی شرٹ بھی پہن رکھی ہے۔

تصویر کے عنوان میں اس کا تعارف عیسیٰ روح اللہ خطاب الکشمیری کے طور پر کیا گیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر پوسٹس میں عیسیٰ کے ساتھیوں کو ابوذر الھندی اور ابو براہ الکشمیری کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں سے ایک سرینگر کے صورہ علاقے میں ایک پولیس چوکی پر حال ہی میں کیے جانے والے حملے میں ملوث تھا۔

چھبیس فروری کو کیے جانے والے اس حملے کی ذمہ داری ‘داعش’ نے قبول کی تھی۔ داعش کے بیان میں کہا گیا تھا کہ “جنگ چھڑ چکی ہے۔”

کشمیر میں داعش کے سرگرم ہونے کی خبریں اور دعوے اس سے قبل بھی منظرِ عام پر آتے رہے ہیں لیکن حکام کا موقف ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ داعش وادی میں کوئی بڑی اور مؤثر قوت ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بعض عسکریت پسند انفرادی طور پر تو داعش سے متاثر ہوسکتے ہیں لیکن شدت پسند تنظیم کے باقاعدہ منظم نیٹ ورک کی موجودگی کے قابلِ بھروسا شواہد دستیاب نہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعے کے بارے میں پولیس نے بتایا ہے کہ ہاکورہ میں عسکریت پسندوں کے موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی دستوں نے علاقے میں آپریشن کیا تھا جس کے دوران اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں تینوں عسکریت پسند مارے گئے۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا ہے کہ اگر ہاکورہ میں مارے جانے والے افراد کا تعلق واقعی دولتِ اسلامیہ سے ہے تو یہ کشمیر میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے جس میں سکیورٹی اداروں نے داعش کے دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔

ہلاک ہونے والے عسکریت پسند عیسیٰ کے والد نعیم فاضلی ایک کالج کے پرنسپل ہیں اور انہوں نے اپنی فیس بُک ٹائم لائن پر لکھا ہے، “باوثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ میرا بیٹا عیسیٰ فاضلی جنت سدھار گیا۔ انا لله وانا اليه راجعون۔”

فاضلی خاندان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عیسیٰ کشمیر کی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں بی ٹیک کا طالب علم تھا اور چند ماہ قبل اچانک لاپتا ہوگیا تھا۔ بعد میں اہلِ خانہ کو پتا چلا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہوگیا ہے جس پر اُس کے والد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اُسے واپس گھر لوٹنے پر آمادہ کرنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow