بھارتی میڈیا کہ مطابق نئی دہلی کے ہائی کمشنر اجے بساریہ نے اس بارے میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو بھی آگاہ کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے ایک دوسرے پر سفارت کاروں کا ہراساں کرنے کے الزامات

پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک دوسرے پر سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان نے نئی دہلی میں تعینات اپنے سفارتی عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر حال ہی میں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے احتجاج کیا تھا جس کے بعد نئی دہلی کی طرف سے بھی ایسا ہی الزام سامنے آیا ہے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارتی عملے کو ہراساں کیا۔

بھارتی میڈیا کہ مطابق نئی دہلی کے ہائی کمشنر اجے بساریہ نے اس بارے میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو بھی آگاہ کیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر سے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے سفارتی عملے اور اُن کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان واقعات کے سبب پاکستانی سفارت کاروں کے لیے اپنے اہلِ خانہ کو نئی دہلی میں ساتھ رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی طرف سے بھی بھارتی وزارتِ خارجہ کو ایک مراسلے کے ذریعے سفارتی عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے 18 واقعات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق 8 مارچ کو نئی دہلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کی گاڑی کا دو گاڑیوں نے مبینہ طور پر تعاقب کیا۔

گاڑی میں ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچے سوار تھے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرائیور کو گاڑی روکنے پر مجبور کیا گیا اور اُسے ڈرایا بھی گیا۔

پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایسے ہی مبینہ واقعات کئی دیگر پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ بھی پیش آئے ہیں۔

دوسری جانب بھارت ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں کراچی میں بوہرہ برادری کی ایک تقریب میں جاتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کی گاڑی کو ایک مصروف سڑک پر روکا گیا اور اُنھیں ظہرانے میں شرکت نہیں کرنے دی گئی۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ لگ بھگ دو برسوں سے خاصے کشیدہ ہیں۔ حالیہ کشیدگی کی بڑی وجہ ایک دوسرے پر دہشت گردی کی معاونت کے الزامات اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ و گولہ باری کے تواتر کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ہیں۔

بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عزیز احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ماضی میں بھی سفارتی عملے اور اُن کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ سفارتی آداب اس طرح کے اقدامات کی کسی طور اجازت نہیں دیتے۔ ان کے بقول، “مسائل کا حل بات چیت ہی سے ممکن ہے اور اس کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔”

عزیز احمد خان نے کہا کہ اگر دوطرفہ مسائل پر بات چیت نہیں بھی ہو رہی ہے تو ایسے واقعات سے بچنا چاہیے جو دوطرفہ تعلقات میں مزید کشیدگی کا سبب بیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی پاکستان اور بھارت نے ایسے سویلین قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا جن کی عمریں 70 سال سے زیادہ ہیں، یا وہ خواتین ہیں یا وہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کی تجاویز پر اتفاق کے بعد پاکستان کی طرف سے اس اُمید کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ یہ اقدامات دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی ایک سیڑھی ثابت ہوں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ بات چیت بھارت کے انکار کی وجہ سے برسوں سے رکی ہوئی ہے۔ بھارت کا الزام ہے پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔

پاکستان دہشت گردی کی معاونت سے متعلق بھارتی الزامات کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

x

Check Also

پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کی آمد اور مشکلات میں اضافہ

محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے جنگ بندی لائن پر کشیدگی کے بعض واقعات کے باوجود کہ گزشتہ برس پاکستانی کشمیر کی سیاحت پر 15 لاکھ سے زیادہ افراد آئے تھے جن میں سے 40 فی صد کی منزل وادی نیلم تھی۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow