اپنے قیام کے دوران 'آئی اے ای اے' کے سربراہ پاکستان میں سول جوہری توانائی کی مختلف تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

پاکستان ‘آئی اے ای اے’ کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے کا خواہاں

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ یوکیا امانو پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں پیر کو انھوں نے وزیرI اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے علاوہ جوہری توانائی سے سرطان کے علاج کے لیے اسلام آباد میں قائم اسپتال ‘نوری’ کا دورہ بھی کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق امانو سے ملاقات میں وزیرِ اعظم عباسی کا کہنا تھا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال میں دہائیوں کے تجربے کا حامل پاکستان، آئی اے ای اے کے ساتھ اپنی شراکت دار کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

ملاقات میں آئی اے ای اے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ جوہری شعبے میں تجربے اور مہارت کے ساتھ عالمی ادارے کے وضع کردہ مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے یوکیا امانو کو توانائی کے شعبے میں پاکستان کے منصوبوں اور ان میں جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

اپنے قیام کے دوران ‘آئی اے ای اے’ کے سربراہ پاکستان میں سول جوہری توانائی کی مختلف تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

‘آئی اے ای اے’ اقوامِ متحدہ سے منسلک ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو دنیا میں جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow