پی ایس ایل کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی میچ کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا ہے۔

سپر اوور میں لاہور نے کراچی کو 3 رنز سے ہرا دیا

پاکستان سپر لیگ سیزن تھری کے 24 ویں میچ میں دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز نے کراچی کو شکست دے دی۔ مقررہ اوور میں مقابلہ برابر رہا۔ میچ کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا۔ پی ایس ایل کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی میچ کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا ہے۔

سپر اوور میں لاہور قلندرز نے جیت کے لئے12رنز کا ہدف دیا لیکن سنیل نارائن کی عمدہ بولنگ کے باعث کراچی کنگز کی ٹیم 8رنز بناسکی۔

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ کراچی کنگز کی طرف سےسمنز اور ڈ ینلے نے اننگز کا آغاز کیا۔ کراچی کنگز کو جلدہی نقصان اٹھانا پڑا اور ڈینلے صرف تین رنز بناکر یاسر شاہ کا شکار ہوگئے۔ اس وقت ٹیم کا مجموعی اسکور صرف 19رنز تھا۔

ڈینلے کے بعد بابر اعظم بیٹنگ کے لئے آئے اور سمنز کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کی شراکت میں 72رنز کا اضافہ کیا۔سیمنز برق رفتار 55رنز بناکر بابر اعظم کا ساتھ چھوڑگئے۔

بابر اعظم نے رنزکی رفتار کو برقرار رکھا اور تیزی کے ساتھ اسکور میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ اس دوران انگرام 12رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

انگرام کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 61رنز پر سہیل خان کی گیند پر سنیل نارائن کو کیچ دے بیٹھے۔شاہد آفریدی نےآج بھی مداحوں کو مایوس کیا اورصرف 6رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

اس طرح کراچی کنگز نے مقررہ بیس اوورز میں 5وکٹوں کے نقصان پر 163رنز بنائے۔ روی بوپارا 13اور عماد وسیم ایک رن پر ناٹ آؤٹ رہے۔

سہیل خان نے تین جبکہ یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور ڈیوسیچ 24رنز کی اننگز کھیل کر محمد عرفان کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

ڈیوسیچ کے آؤٹ ہونے کے بعد آغا سلمان میدان میں اُترے اور فخر زمان کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے دوسری وکٹ کی شراکت میں 63رنز کا اضافہ کیا۔

فخرزمان گیند کو گراؤنڈ سے باہر پھینکنے کی کوشش میں عماد وسیم کی گیند پر انگرام کو کیچ دے بیٹھ۔ وہ 28رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔سنیل نارائن کو صرف 8رنز پر محمد عرفان نے ایل بی ڈبلیو کیا۔

آغا سلمان اور کپتان مک کولم نے ٹیم کو فتح دلانے کی ہرممکن کوشش کی اور تیزی کے ساتھ رنز بنائے۔ اس دوران آغا سلمان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ بابراعظم اور لینڈل سمنز نے مشترکہ طور پر شاندارکیچ لے کر آغا سلمان کو پویلین واپس بھیج دیا۔

مک کولم آج بھی متاثر کن پرفارمنس نہ دے سکے اور 15رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ سہیل خان کو بغیر کھاتہ کھولے محمد عامر نے پویلین کی راہ دکھائی۔

میچ نے اُس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کرلی جب لاہور قلندرز کو آخری اوور میں جیت کے لئے 16رنز دکار تھے۔ سہیل اختر عثمان شنواری کے اوور کی پہلی گیند پر دورنز، دوسری گیند پر چوکا، تیسری گیند پر چھکالگادیااور چوتھی گیند پرکلین بولڈ ہوگئے لیکن شنواری کی گیند نو بال قرار دی گئی۔

آخری گیند پر لاہور قلندر ز کوجیت کے لئے دورنز کی ضرورت تھی لیکن ایک رن لینے کے بعد دوسرے رن کی کوشش میں گلریز صدف رن آؤٹ ہوگئے۔ یوں میچ ٹائی ہوگیا اور میچ کا فیصلہ سپر اوور پر کرنا پڑا۔

پوائنٹس ٹیبل پرکوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈکے 10، 10پوائنٹس ہی۔ کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے 9،9، پشاور زلمی کے 6 جبکہ لاہور قلندرز کے4وائنٹس ہیں۔ ایونٹ میں کل کوئی میچ نہی ہے۔ منگل کو ایک میچ کھیلا جائے گا جس میں ملتان سلطانز کا مقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ سے ہوگا۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow