بھارتی کنٹرول کے کشمیر   میں 1978 سے نافذ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو اُس پر مقدمہ چلائے بغیر تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے قیدیوں کو کشمیر بدر کرنے کی درخواست

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے بھارت کی وزارت خارجہ کو لکھا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار سے تعلق رکھنے والے اُن لگ بھگ 25 قیدیوں کو ملک بدر کرنے کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں جو اس کے بقول سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

وزارتِ خارجہ کو بھیجے گئے ایک ایس او ایس یا مصیبت میں مدد کے لئے فوری درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان قیدیوں نے مختلف عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزائیں پوری کرلی ہیں اور اب یہ پبلک سیفٹی ایکٹ یا پی ایس اے کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔

شورش زدہ ریاست میں 1978 سے نافذ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو اُس پر مقدمہ چلائے بغیر تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ قید کی مدت کو پی ایس اے کو کسی بھی ایک شخص کے خلاف ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کرکے بڑھایا بھی جاسکتا ہے-تاہم اسے عام عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی قیدیوں کو، جنہیں حفاظتی دستوں نے مختلف موقعوں پر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے، غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے یا منشیات کی اسمگلنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، ملک بدر کرنے کے لئے ایک زیرِ سماعت مبینہ پاکستانی عسکری کمانڈر محمد نوید جھٹ کے پولیس کی حراست سے فرار ہو جانے کے چند دن بعد کہا گیا ہے۔

نوید عرف ابو حنظلہ جو مبینہ طور پر عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر ہے اور جس کے بارے میں عہدیدار وں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی پنجاب کے ساہیوال ملتان علاقے کا باشندہ ہے، 6 فروری کو اُس وقت پولیس حراست سے بھاگنے میں کامیاب ہوا تھا جب اُسے پانچ دوسرے قیدیوں کے ہمراہ معمول کے طبعی معائنے کے لئے سری نگر کی مرکزی جیل سے شہر کے ایک بڑے سرکاری اسپتال لے جایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق اسپتال میں پہلے سے موجود دو مبینہ عسکریت پسندوں نے اُسے پستول تھما دی تھی جس کے بعد نوید نے دو پولیس محافظوں کو گولی مار دی اور پھر تینوں وہاں سے فرار ہو گئے۔

اگرچہ پولیس نے نوید کی مدد کرنے کے الزام میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے اس کی دوبارہ گرفتاری کے لئے مسلسل جاری فوجی کارروائیاں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

نویدکو بھارتی حفاظتی دستوں نے جون 2014 میں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کلگام سے گرفتار کیا تھا۔

سماجی ویب سائٹس فیس بُک ، ٹویٹر کام اور واٹس ایپ پر گذشتہ دنوں وائرل ہونے والی تصاوير کے مطابق وہ دوبارہ عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہوگیا ہے اور جیسا کہ عہدیدار وں کا کہنا ہے کہ وہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی حصے میں چھپا ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد اگرچہ ریاست کی جیلوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی اور سری نگر کی مرکزی جیل میں بند 16 پاکستانی قیدیوں کو صوبہ جموں کی جیلوں میں منتقل کرنے کی کارروائی شروع کی گئی، تاہم عہدیدار یہ سمجھتے ہیں کہ 25 ایسے غیر ملکی قیدی جنہوں نے قید کی مدت پوری کرلی ہے، سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، لہٰذا انہیں جلد از جلد اپنے ملکوں کو بھیج دیا جائے۔

ایک اور خبر کے مطابق متنازع کشمیر کی حد بندی لائن کے اوڑی علاقے میں بھارت اور پاکستانی سیکیورٹی دستوں کے درمیان فائرنگ اور مارٹر گولوں میں اضافے کے بعد کئی سرحدی آبادیوں سے درجنوں خاندان محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے کہا کہ جمعہ کی سہ پہر تک 500 افراد اُوڑی میں اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کو منتقل ہو چکے تھے۔

عہدیدار وں نے کہا ہے کہ’بلا اشتعال ‘پاکستانی فائرنگ اور مارٹر شیلنگ میں تین نجی گھروں کو شديد نقصان پہنچا۔

ادھر پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد میں عہدیدار وں نے جمعرات کو بتایا تھا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے ضلع راولاکوٹ کے ایک سرحدی علاقے میں ایک مزدور انضمام حسین ہلاک ہوا تھا جس کے بعد اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترِ خارجہ پر بُلاکر اس واقعے پر احتجاج کیا گیا۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow