ٹیررسٹ فنڈنگ کی نگرانی سے متعلق فہرست میں پاکستان کے نام کے ممکنہ اندراج  سے متعلق  کئی دنوں سے گردش کرنے والی خبروں کے بعد پیرس سے  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے ہاں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات تسلی بخش نہیں ہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرنے والا ایک عالمی ادارہ ہے۔ 23 فروری کو ایف اے ٹی ایف کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں جن ملکوں کا ذکر ہے ان میں ایتھوپیا، سری لنکا، سربیا، شام، ٹوباگو، تیونس اور یمن بھی شامل ہیں۔  تاہم اس سلسلے میں جاری کی جانے والی فہرست میں پاکستان نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو تین مہینوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اور ٹیررسٹ فنانسنگ روکنے سے متعلق پاکستانی کی کوششوں کا جائزہ جون کے اجلاس میں لیا جائے گا۔ لیکن 23 فروری کو، جب ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلامیہ متوقع تھا، کئی بھارتی میڈیا چینلز نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں جاری کیں کہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جن کے مالیاتی معاملات کی نگرانی مطلوب ہوتی ہے۔ بعد ازاں یہ خبریں عالمی میڈیا چینلز پر بھارت اور ان ذرائع کے حوالے سے پھیلنے لگیں جن کا نام پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جمعے کے روز ختم ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں باقی أمور کے علاوہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں دوبارہ ڈالنے کی تجویز بھی شامل تھی جو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ سرگرم تھا اور اسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تائید حاصل تھی۔ جب کہ امریکی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے پاکستانی عہدے داروں نے سرگرم سفارت کاری کی۔ رپورٹس کے مطابق وہ چین، ترکی، خلیج تعاون کونسل اور سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نگرانی کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے پیرس اجلاس سے چند روز پہلے پاکستان نے حافظ سعید کی فلاحی تنظیموں کو سرکاری تحويل میں لے لیا تھا کیونکہ کئی مغربی ممالک یہ الزام لگا رہے تھے کہ پاکستان میں کالعدم گروپ نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں اور حکومت ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ حافظ سعید کے فلاحی گروپ کو حکومتی تحويل میں لیے جانے کے اقدام سے امریکہ مطمئن نہیں ہوا اور وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف امریکی توقعات کے مطابق کارروائیاں نہیں کر رہا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو صدر ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ جمعرات کی شام یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ چین اور خلیج تعاون کونسل نے اپنی حمایت واپس لے کر پاکستان کا نام نگرانی کی فہرست میں شامل کیے جانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ افوائیں اتنی توانا تھیں کہ جمعے کے روز پاکستان کے کئی ٹی وی چینل اعلیٰ حکومتی عہدے داروں اور مالیاتی أمور کے ماہرین کے حوالے سے یہ کہتے رہے کہ نگرانی کی فہرست میں نام درج کیے جانے کے باوجود قومی معیشت پر اس کے اثرات محدود نوعیت کے ہوں گے۔ جب کہ اکثر اقتصادی ماہرین کی رائے میں غیرملکی سرمایہ کاری اور بینکاری کے نظام پر اس کے قابل ذکر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پاکستان کا نام اس سے پہلے 2012 سے 2015 تک اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی فہرست میں نام کا شامل نہ کیا جانا پاکستان کے لیے اپنا گھر درست کرنے اور دہشت گردی کےخلاف عالمی کوششوں میں موثر کردار ادا کرنے کا ایک موقع ہے جس سے اسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اعلامیے میں شامل نہیں

ٹیررسٹ فنڈنگ کی نگرانی سے متعلق فہرست میں پاکستان کے نام کے ممکنہ اندراج سے متعلق کئی دنوں سے گردش کرنے والی خبروں کے بعد پیرس سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے ہاں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات تسلی بخش نہیں ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرنے والا ایک عالمی ادارہ ہے۔

23 فروری کو ایف اے ٹی ایف کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں جن ملکوں کا ذکر ہے ان میں ایتھوپیا، سری لنکا، سربیا، شام، ٹوباگو، تیونس اور یمن بھی شامل ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں جاری کی جانے والی فہرست میں پاکستان نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو تین مہینوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اور ٹیررسٹ فنانسنگ روکنے سے متعلق پاکستانی کی کوششوں کا جائزہ جون کے اجلاس میں لیا جائے گا۔

لیکن 23 فروری کو، جب ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلامیہ متوقع تھا، کئی بھارتی میڈیا چینلز نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں جاری کیں کہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جن کے مالیاتی معاملات کی نگرانی مطلوب ہوتی ہے۔ بعد ازاں یہ خبریں عالمی میڈیا چینلز پر بھارت اور ان ذرائع کے حوالے سے پھیلنے لگیں جن کا نام پوشیدہ رکھا گیا تھا۔

پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس جمعے کے روز ختم ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں باقی أمور کے علاوہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں دوبارہ ڈالنے کی تجویز بھی شامل تھی جو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

اس سلسلے میں امریکہ سرگرم تھا اور اسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تائید حاصل تھی۔ جب کہ امریکی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے پاکستانی عہدے داروں نے سرگرم سفارت کاری کی۔ رپورٹس کے مطابق وہ چین، ترکی، خلیج تعاون کونسل اور سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

نگرانی کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے پیرس اجلاس سے چند روز پہلے پاکستان نے حافظ سعید کی فلاحی تنظیموں کو سرکاری تحويل میں لے لیا تھا کیونکہ کئی مغربی ممالک یہ الزام لگا رہے تھے کہ پاکستان میں کالعدم گروپ نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں اور حکومت ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

حافظ سعید کے فلاحی گروپ کو حکومتی تحويل میں لیے جانے کے اقدام سے امریکہ مطمئن نہیں ہوا اور وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف امریکی توقعات کے مطابق کارروائیاں نہیں کر رہا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو صدر ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

جمعرات کی شام یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ چین اور خلیج تعاون کونسل نے اپنی حمایت واپس لے کر پاکستان کا نام نگرانی کی فہرست میں شامل کیے جانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

یہ افوائیں اتنی توانا تھیں کہ جمعے کے روز پاکستان کے کئی ٹی وی چینل اعلیٰ حکومتی عہدے داروں اور مالیاتی أمور کے ماہرین کے حوالے سے یہ کہتے رہے کہ نگرانی کی فہرست میں نام درج کیے جانے کے باوجود قومی معیشت پر اس کے اثرات محدود نوعیت کے ہوں گے۔ جب کہ اکثر اقتصادی ماہرین کی رائے میں غیرملکی سرمایہ کاری اور بینکاری کے نظام پر اس کے قابل ذکر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں

پاکستان کا نام اس سے پہلے 2012 سے 2015 تک اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی فہرست میں نام کا شامل نہ کیا جانا پاکستان کے لیے اپنا گھر درست کرنے اور دہشت گردی کےخلاف عالمی کوششوں میں موثر کردار ادا کرنے کا ایک موقع ہے جس سے اسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow