فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اس بیان میں کچھ بھی سیاسی یا مذہبی نہیں ہے۔ آرمی چیف 21 فروری کو منعقدہ ایک سیمینار میں صرف شمال مشرق میں انضمام اور ترقی کا ذکر کر رہے تھے۔

مسلمانوں سے متعلق بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر نکتہ چینی

سہیل انجم

بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنے ایک سیاسی بیان کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی زیر قیادت آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ جو کہ آسام میں مسلمانوں کے مفادات کا چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آسام میں جتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اتنی تیزی سے 1980 میں بی جے پی بھی نہیں بڑھی تھی۔

ان کے اس بیان پر بدرالدین اجمل اور رکن پارلیمنٹ و مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کی جانب سے شدید نکتہ چینی کے بعد فوج کو وضاحتی بیان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔

فوج کی جانب سے کہا گیا کہ اس بیان میں کچھ بھی سیاسی یا مذہبی نہیں ہے۔ آرمی چیف 21 فروری کو منعقدہ ایک سیمینار میں صرف شمال مشرق میں انضمام اور ترقی کا ذکر کر رہے تھے۔

جنرل راوت نے آسام میں بنگلہ دیشیوں کی مبینہ دراندازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں لوگوں کی جو منصوبہ بند آمد ہے وہ ہمارے مغربی ہمسائے کی وجہ سے ہے۔ ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا۔ ان کا الزام ہے کہ وہ درپردہ دراندازی کروا کر اس علاقے کو ہتھیانا چاہتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبہ بند کوشش کو شمالی سرحد یعنی چین کی حمایت حاصل ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسئلے کی شناخت کی جائے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

پاکستان ایسے کسی بھی الزام کی سختی سے ترديد کرتا اور دراندازی میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کرتا ہے۔

بدرالدین اجمل نے کہا کہ ان کی پارٹی اگر ریاست میں بی جے پی سے آگے نکل رہی ہے تو اس پر فوجی سربراہ کیوں فکرمند ہیں۔ جبکہ اسد الدین اویسی نے ان کے بیان کو نامناسب قرار دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

ادھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے جنرل راوت کے بیان پر کچھ بولنے سے انکار کر دیا۔ بقول ان کے کسی شخص نے کوئی بیان دیا اس پر کسی اور نے رد عمل ظاہر کیا تو اس پر میں کوئی تبصرہ کیوں کروں۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow