ایک سرکاری بیان کے مطابق ترکمانستان اور افغانستان کے صدور کی دعوت پر وزیراعظم عباسی یہ دورہ کر رہے ہیں۔

تاپی گیس پائپ لائن کا سنگ بنیاد، وزیر اعظم عباسی ترکمانستان اور ہرات روانہ

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جمعرات کو ترکمانستان پہنچے ہیں جس کے بعد وہ افغانستان کے صوبہ ہرات جائیں گے اور افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ترکمانستان اور افغانستان کے صدور کی دعوت پر وزیراعظم عباسی یہ دورہ کر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان ’تاپی‘ نامی چار ملکی گیس پائپ لائن کے ’لنک اپ‘ منصوبے کا سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

جب کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں وہ افغانستان کے صوبہ ہرات جائیں گے جہاں وہ تاپی منصوبے ہی کے سنگ بنیاد سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شاہد خاقان عباسی بعد میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حالیہ تناؤ کے تناظر میں تجزیہ کار اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس سے ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میں مدد ملے گی۔

تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اعلٰی سطحی رابطے تعلقات میں بہتری کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ’’میرے خیال میں اسے کافی برف پگلے گی۔‘‘

تاپی گیس پائپ لائن کا ایک بڑا حصہ افغانستان میں سے ہو کر گزرے گا اور وہاں کی سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر اس منصوبے کی بر وقت تکمیل کے حوالے سے شکوک و شبہا ت کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

دس ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت 1800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے ترکمانستان سے قدرتی گیس افغانستان، پاکستان اور بھارت کو مہیا کی جائے گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ 2019 میں مکمل ہو گا جس سے پاکستان کو یومیہ 1325 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس حاصل ہو سکے گی۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow