ایونٹ کے آغاز کا پہلا میچ جمعرات کو ہی افتتاحي تقریب کے بعد پشاور زلمی اور ملتان سلطان کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ایونٹ میں مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران 34 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر میچ چالیس چالیس  اوورز پر مشتمل ہوگا یعنی ہر ٹیم کو 20، 20کھیلنا ہوں گے۔

پاکستان سپر لیگ سیزن 3 کی دبئی میں رنگا رنگ افتتاحي تقریب

پاکستان سپرلیگ سیزن تھری کا آغاز ہوگیا ہے۔ جمعرات کی رات دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں افتتاحي تقریب ہوئی۔ تقریب کو دیکھنے کے لئے جہاں اسٹیڈیم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا وہیں پاکستان بھر میں لوگوں نے رنگ برنگی ہزاروں روشنیوں میں ڈوبی اس محفل کو ٹی وی پر براہ راست دیکھا۔

دبئی کے مقامی وقت کے مطابق تقریب اپنے مقررہ وقت رات نو بجے شروع ہوئی۔ آغاز میں مختلف میوزیشنز نے متحدہ عرب امارات کے قومی ترانے کے دھن بجائی، اور روشنیوں سے وہاں کا سرکاری نشان بنایا گیا ۔ بعد ازاں پاکستان کے قومی پرچم کی دھن فضاء میں بلند ہوئی تو تمام پاکستانی اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔

تقریب میں علی ظفر کی آمد فلمی انداز میں ہوئی۔ انہوں نے فضا میں اسکیٹنگ بورڈ اور اپنی پرفارمنس سے اسٹیڈیم کا ماحول گرما دیا ۔ نیلے رنگ کی روشنیوں اور فضا میں اسکیٹنگ بورڈ کے ساتھ پرفارمنس اور میدان میں مختلف فنکاروں کے ڈانس نے وہ سماں باندھا کہ پورا اسٹیڈیم جھوم اٹھا۔

پروگرام کی میزبانی کامیاب پاکستانی ٹی فنکاروں کی جوڑی بلال اشرف اور حریم فاروق نے کی۔ انہوں نے رمیز راجا کو اسٹیج پر بلایا جنہوں نے بار ی باری تمام ٹیموں کا تعارف کرایا۔ سب سے پہلے ملتان سلطان کے کھلاڑیوں نے کرکٹ کے شائقین کو اپنا دیدار کرایا ۔ اسی طرح اسلام آباد یونائٹیڈ، کراچی کنگز ، لاہور قلندرز، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں نے باری باری میدان میں اینٹری لی۔ اس دوران تمام ٹیموں کے ترانے بجائے گئے۔ ملتان سلطان پہلی مرتبہ پی ایس ایل کھیل رہی ہے۔

تقریب کے دوران پچھلے سال پشاور زلمی کی حاصل کردہ ٹرافی بھی انوکھے انداز میں میدان میں لائی گئی۔ اس منظر کو دیکھ کر مائیکل جیکسن کی پرفارمنس یاد آ گئی۔ ٹرافی پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے وصول کی جبکہ ڈیرن سیمی کے ساتھ ساتھ سرفراز احمد، مصباح الحق، عماد وسیم اور شعیب منصور سمیت تمام ٹیموں کے کپتانوں نے میڈیا سے مختصر بات چیت بھی کی ۔

تقریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ وہ پی ایس ایل تھری پیش کرتے وقت بہت فخر اور خوشی محسوس کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ بہت محنت اور لگن سے سجایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال چھ ٹیمیں ایونٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ملتان سلطان کا خیرمقدم بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال 24 میچ ہوئے تھے جبکہ اس سال 34میچ ہوں گے ۔ انہوں نے پی ایس ایل میں حصہ لینے والے درجنوں غیر ملکی ٹیکنیشنز اور دیگر اہم عملے کا ذکر کیا۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی سی ایل کسی ایک کا نہیں، پاکستان کا اثاثہ ہے۔ ہمیں اس اثاثے کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے تمام افراد اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی بہت جلد سارا کا سارا پی ایس ایل ایونٹ پاکستان کے مختلف شہروں میں کھیلا جائے گا۔

تقریب میں حاضرین اور ناظرین کے انٹرٹیمنٹ کے لئے مختلف میوزیکل پرفارمنس بھی پیش کی گئیں۔ ابتدا میں علی ظفر نے پرفارمنس دی تو تقریب کے دوران ان کے ساتھ ساتھ شو بزنس سے تعلق رکھنے والے دیگر کئی فنکاروں نے بھی پرفارم کیا ۔

ان پرفارمنسز میں پاکستان کی لوک فنکارہ اور صوفیانہ کلام گانے کی ماہر عابدہ پروین کی صوفیانہ گائیکی بھی شامل تھی۔ جیسے ہی ان کا نام پکارا گیا انگنت لوگوں نے کھڑے ہوکر ہاتھ ہلایااو ر ان کا پر جوش استقبال کیا۔ پھر جیسے ہی انہوں نے’ تیرے عشق نے نچایا ۔۔‘‘شروع کیا سارا اسٹیڈم گویا یکسو ہوکر جھوم جھوم اٹھا۔

عابدہ پروین ہوں اور’ دما دم مست قلندر ۔۔‘پیش نہ کریں یہ کم ہی ہوتا ہے کیوں کہ ان کی منفرد گائیگی اور مست کر دینے والی اس کی دھنیں سب کو اپنے سحر میں باندھ لیتی ہیں۔ آج کی تقریب میں ’دما دم مست قلندر ‘ پیش کئے جانے پر بھی ایسا ہی ہوا ۔ اس پررنگ و نور ، روشنیوں کی بارش ، مختلف فنکاروں کا رقص اور پرفارمنس۔۔یہ سب پوری تقریب کی جان تھا۔

تقریب کو مزید جان دار بنانے کے لئے آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ پورا اسٹیڈیم روشنیوں سے منور ہوگیا جبکہ آسمان پر پھیلتی اور سکڑتی روشنیوں نے وہ کمالات دکھائے کہ سب عش عش کراٹھے۔

عابدہ پروین کے بعد ایک اور پاکستانی سنگر شہزاد رائے کو اسٹیج پر گانے کی دعوت دی جنہوں نے کئی ساتھی پرفارمرز کے ساتھ تقریب کو چار چاند لگائے۔ ان کے بعد مغربی موسیقی کے بھی کچھ رنگ پیش کئے گئے جن میں جیسن اور دیگر آرٹسٹوں نے پرفارم کیا۔ علی ظفر دوبارہ اسٹیج پر آئے تو انہوں نے پی ایس ایل کا آفیشیل سانگ ’ یہ کھیل پھر جمے گا‘ پیش جس کے بعد یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

ایونٹ کے آغاز کا پہلا میچ جمعرات کو ہی افتتاحي تقریب کے بعد پشاور زلمی اور ملتان سلطان کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ایونٹ میں مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران 34 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر میچ چالیس چالیس اوورز پر مشتمل ہوگا یعنی ہر ٹیم کو 20، 20 کھیلنا ہوں گے۔

ڈیرن سیمی کی قیادت میں پشاور زلمی اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow