خلیج کے علاقے میں آباد بد صدیوں سے اونٹنی کا دودھ اپنی بنیادی خوراک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اونٹنی کے دودھ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔

بچوں کے لیے اونٹنی کے دودھ کا بے بی فارمولہ مارکیٹ میں آ گیا

متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی نے بچوں کے لیے اونٹنی کے دودھ سے تیار کردہ دنیا کا پہلا بے بی فارمولہ متعارف کرایا ہے۔

دودھ کا یہ پاؤڈر ان بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہیں گائے کے دودھ سے الرجی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی ’ کیمل ملک اینڈ پراڈکٹس‘ نے اپنا یہ نیا برانڈ اس ماہ دبئی میں ہونے والی خوراک سے متعلق بین الاقوامی میلے’ گلف فوڈ 2018‘ میں متعارف کرایا۔

یہ نمائش 18 سے 22 فروری تک دبئی میں جاری رہی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خشک دودھ ایک سے تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفید ہے اور یہ ان بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہیں گائے کے دودھ سے الرجی ہے۔

خلیج کے علاقے میں آباد بد صدیوں سے اونٹنی کا دودھ اپنی بنیادی خوراک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اونٹنی کے دودھ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے۔

آج کے جدید دور میں بھی اونٹنی کا دودھ بدؤں کی روزمرہ خوراک میں شامل ہے۔

خلیجی ریاستوں میں حالیہ برسوں کے دوران اونٹنی کے دودھ اور گوشت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور کھانے پینے کی چیزوں میں ان کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

بچوں کے لیے اونٹنی کے دودھ سے تیار کردہ پاؤڈر ملک متعارف کرائے جانے سے پہلے، اونٹ کے گوشت کے برگر، سلائس اور پارچے اور اونٹنی کے دودھ کی چاکلیٹ کئی برسوں سے فروخت کی جا رہی ہے۔

کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا بے بی فارمولہ، اونٹنی کے دودھ سے تیار کیا جانے والا دنیا کا پہلا پاؤڈر ملک ہے۔

کمپنی کے جنرل منیجر سعید جمعہ بن صبح نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اونٹنی کا دودھ عرب اور اسلامی ثفافت کی ایک لازمی حصہ ہے۔ ہمارا یہ پراڈکٹ متحدہ عرب امارات کی ان اقدار اور روايات کا حصہ ہے جو صدیوں سے ایک سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہیں۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow