بلوچی فلم ’زراب‘ میں مختلف عمر کے کرداروں کو دو وقت کی روٹی کے لیے مشقت کرتے دکھایا گیا ہے۔ فلم کے مختلف کرداروں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جو صبح سکول جاتا ہے اور شام کے وقت ایک گیراج میں کام کرتا ہے

بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں آج بھی غربت کا راج

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہٴ بلوچستان جو گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک منصوبے کی وجہ سے بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں کے بیشتر علاقوں میں آج بھی غربت کا راج ہے۔

یہاں کے معاشی مسائل پر بلوچ فلم ساز، جان البلوشی نے گوادر کے علاقے پسنی کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بلوچی زبان میں ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، البلوشی نے کہا کہ فلم ’زراب‘ میں انہوں نے جاری حقیقت نمایاں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کل خبروں میں یہ کہا جاتا ہے کہ گوادر دبئی بن رہا ہے۔ مگر اصل میں وہاں کا طرز زندگی وہی ہے جو آج سے تقریباً دس، پندرہ سال پہلے تھا۔ گوادر کے عام لوگوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے؟ میں نے اسی کو بنیاد بنا کر فلم بنائی ہے۔”

فلم میں مختلف عمر کے کرداروں کو دو وقت کی روٹی کے لیے مشقت کرتے دکھایا گیا ہے۔ فلم کے مختلف کرداروں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جو صبح سکول جاتا ہے اور شام کے وقت ایک گیراج میں کام کرتا ہے۔

پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں اسکول جانے کی عمر کے بیشمار بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ بچوں سے مشقت کرانے کے خلاف کوئی مؤثر قانون موجود نہیں۔ ملک کے بڑے معاشی مراکز میں کم عمر مزدوری کرتے یا بھیک مانگتے بچے سرِ عام نظر آتے ہیں۔

’زراب‘ ایک کم بجٹ کی فلم ہے۔ لیکن، البلوشی کا کہنا ہے کہ ان کی اس کاوش کو دیکھ کر بلوچ نوجوان فلم میکنگ کی طرف راغب ہوں گے۔

جان البلوشی بحرین میں اپنی فلم کی سکرینگ کروا چکے ہیں اور فلم کو بین الاقوامی فلم فیسٹول میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow