سیاست چھوڑ دی میں نے ۔تحریر: ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ

سیاست چھوڑ دی میں نے ۔۔۔معروف سیاسی ،سماجی ،رفاعی ،مذہبی و ہر دلعزیز شخصیت سید منشاء عباس بخاری نے سیاست سے دستبرداری اور سیاستدانوں سے علیحدگی اختیار کر لی ،آئندہ کسی قسم کی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی کسی سیاستدان کی انتخابات کے موقع پر سپورٹ کریں گے نہ عوام الناس کو کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی بھی سیاست دان کو ووٹ دینے کی تلقین کریں گے انھوں نے یہ اعلان اپنے روحانی پیشوا سید شاکر عزیر بابا جی سرکار کے حکم پر اپنے والد محترم پیر سید مخدوم صفدر علی بخاری سرکارؒ کے 13ویں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی تقریب کے موقع پر کیا ،تحصیل پنڈ دادنخان کے معروف گاؤں ڈھڈی تھل شریف سے تعلق رکھنے والی انتہائی قابل و محترم شخصیت سید منشاء عباس بخاری نے جب چاہا اپنے علاقہ کی سیاست کا رخ موڑ دیا، جب چاہا کسی سیاستدان کو جتوا دیا اور جب چاہا ہروا دیا ،وہ جس جماعت میں گئے وہ جس سیاسی شخصیت کے ساتھ ہوئے کامیابی و کامرانی نے اس کے قدم چومے ،وہ مسلم لیگ (ق) میں گئے تو اہلیان ڈھڈی تھل و اہلیان علاقہ بھی مسلم لیگ (ق) کے ہو گئے وہ مسلم لیگ (ن) میں گئے تو دنیا بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہو گئی سابق سنیٹر راجہ افضل خان کے ہوئے تو ان کے بیٹے کو ایم این اے بنوا دیا ،نوابزادہ اقبال مہدی خان مرحوم کاساتھ دیا تو وہ ایم این اے بن گئے اور بعد میں انکے صاحبزادے راجہ مطلوب مہدی کے ساتھ ملے تو وہ بھی ایم این اے بن گیا ،چوہدری نذر حسین گوندل کی طرف داری کی تو وہ بھی دو مرتبہ ایم پی اے و پارلیمانی سیکرٹری کی سیٹ پر براجمان ہو گئے ،سید شمس حیدر کی طرف توجہ کی تو وہ بھی ایم پی اے کے عہدہ پر فائز ہو گئے ،یوں تحصیل پنڈ دادنخان کے علاقہ تھل اور خاص کر یونین کونسل کندوال کی سیاست تقریباً بیس سالوں تک ان کے ارد گرد گھومتی رہی بلکہ ہمیشہ ان کا طواف کرتی رہی ،وہ انسانیت سے محبت کرنے والے اور علاقہ سے ہمدردی رکھنے والی شخصیت کے مالک ہیں ہمیشہ عوام کی بھلائی و فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ،ان کی سیاست کا مقصد بھی عوام کی خدمت تھی لیکن کافی عرصہ سے ان پر ایک اضطرابی سی کیفت طاری تھی ،سیاست سے دلبرداشتہ دکھائی دیتے تھے اور سیاست سے ان کا دل اچاٹ ہو چکا تھا اکثر نجی محفلوں میں اس کا ذکر بھی کرتے تھے کئی سیاستدان اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد انھیں دکھ بھی پہنچاتے رہے لیکن پھر بھی انہوں نے کسی کو دکھ نہیں دیا ،راقم گواہ ہے کہ آج سے تقریبا14-15سال قبل انکے والد گرامی جناب بابا جی بخاری مخدوم سید صفدر بخاری سر کارؒ نے انھیں فرمایا تھا کہ منشا ء عباس سیاست چھوڑ دو ان سیاستدانوں کے پاس نہ جایا کرو ،یہ سب لوگ تمھارے پاس آیا کریں گے لیکن یہ سارا عرصہ اس کش مکش میں ہی گذر گیا کہ آج سیاست کو خیر آباد کہتا ہوں ،آج کہتاہوں ،کبھی لوگ انھیں سیاست میں رہنے پر مجبور کرتے رہے تو کبھی ان کا اپنا دل چاہتا کہ یہ الیکشن لڑ لوں پھر دستبرداری کا اعلان کروں گا ،راقم نے بھی کئی بار بابا جی بخاری سرکارؒ کا پیغام یاد کروایا لیکن وہ ہر بار کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی شخصیت کی مدبرانہ گفتگو کے اسیر ہو جاتےء ان تمام تر ہتکھنڈوں کا فائدہ تو ہمیشہ سیاسی شخصیات کو پہنچتا رہا لیکن اس کا نقصان علاقائی طور پر بابا جی بخاری سرکارؒ کے دربار مبارک کو پہنچ رہا تھا کیونکہ علاقہ بھر میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو سید منشاء عباس بخاری کی سیاسی طرف داری کے باعث دربار شریف پر حاضری سے قاصر تھے اب سید منشاء بخاری نے سیاست سے دستبرادری اور سیاستدانوں سے سیاسی لاتعلقی کا اعلان کر کے ہزاروں افراد کے دل جیت لئے ہیں اب کسی بھی شخص کو مخدوم سید صفدر علی بخاری سرکار ؒ کے عرس مبارک میں شرکت کرنے اور دربار شریف ڈھڈی تھل پر حاضری دینے میں کسی قسم کی کوئی ججھک محسوس نہیں ہو گی ،اب لوگ کھلے دل کے ساتھ روحانی تسکین حاصل کرنے کے لئے ڈھڈی تھل شریف کا رخ کریں گے اور ڈھڈی تھل کے بخاری سادات خاندان کی عزت و وقار میں مزید بلکہ بے پناہ اضافہ ہو گا اس سیاست نے جو راہ میں روڑے اٹکائے ہوئے تھے وہ تمام ہٹ جائیں گے اور راستے صاف و کلیر ہو جائیں گے اور اب تمام راستے ڈھڈی تھل شریف کی جانب جائیں گے ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow