’مومل رانو‘ کی کہانی سندھ میں کئی زمانوں سے نسل درنسل سنی اور سنائی جا رہی ہے۔ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے شاعری کے ذریعے ’مومل رانو‘ کی کہانی کو امر کر دیا جس کے بعد ’مومل رانو‘ کی لو اسٹوری پر بہت سے افسانے اور گانے لکھے گئے لیکن پہلی بار ’مومل رانو‘ کو لوگ بڑے پردے پر دیکھ سکیں گے۔

سندھ کی لوک داستان ’مومل رانو‘ اب بڑے پردے پر

سوہنی مہیوال، ہیر رانجھا، ماروی اور مومل رانو ۔۔پنجاب اور سندھ کی سوہنی دھرتی سے جڑی محبت کی وہ علاقائی لوک داستانیں ہیں جنہیں پورا پاکستان جب بھی سنتا یا پڑھتا ہے ایک کشش محسوس کرتا ہے۔ صدیاں گزر گئیں لیکن یہ کشش جوں کی توں برقرار ہے۔

ہو سکتا ہے ان ناموں میں سندھی لوک داستان ’مومل رانو‘ آپ کے لئے نیا نام ہو یا آپ اس سے زیادہ واقف نہ ہوں لہذا اسے مزید عوامی پذیرائی کے لئے بڑے پردے پر پیش کرنے کا نہ صرف فیصلہ کیا گیا بلکہ تین برسوں کے دوران اسے حقیقت کا رنگ بھی دے دیا گیا۔ یہ مارچ میں ہونے والے ’پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ، کراچی ‘ کا حصہ ہوگی۔

’مومل رانو‘ کی کہانی سندھ میں کئی زمانوں سے نسل درنسل سنی اور سنائی جا رہی ہے۔ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے شاعری کے ذریعے ’مومل رانو‘ کی کہانی کو امر کردیا جس کے بعد ’مومل رانو‘ کی لو اسٹوری پر بہت سے افسانے اور گانے لکھے گئے لیکن پہلی بار ’مومل رانو‘ کو لوگ بڑے پردے پر دیکھ سکیں گے۔

وائس آف امریکہ کو ’پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ یا ’پف ‘ انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں نمائش سے پہلے ’مومل رانو‘ کو کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں پیش کیا جاچکا ہے۔

فلم ’مومل رانو‘ پاکستان اور بھارت کا مشترکہ پروجیکٹ تھا جسے ’زی ٹی وی‘ کے لئے بنایا گیا تھا لیکن دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔

مومل رانو کا پہلا ٹریلر8 فروری کو پیش کیا گیا۔ اسے ڈائریکٹ کیا ہے سراج الحق نے اور لکھا ہے ظفرمعراج نے۔

اس کی لیڈنگ کاسٹ میں ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے دو بہترین آرٹسٹس احسن خان اور صبا قمر شامل ہیں جبکہ باقی کاسٹ میں حسین قادری، اسد قریشی، سلمان سعید، زینب جمیل اور دیگر اداکار شامل ہیں۔

احسن خان نے ’مومل رانو‘ کا شارٹ ٹیزر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ’ مومل رانو آرٹ اور کلچر سے جڑی فلم ہے۔ اب تک بہت سے فلم فیسٹیولز میں دکھائی جا چکی ہے اور اب اسے پاکستانی فلم بین بھی دیکھ سکیں گے۔

ہمیں دوسرے ملکوں سے تو بہت پیار اور تعریف ملی اب امید ہے کہ اپنے ملک میں بھی لوگ ’مومل رانو‘ کو پسند کریں گے۔‘

ادھر صبا قمر کا کہنا ہے کہ ’مومل رانو‘ لوک کہانی پر مبنی لو اسٹوری ہے جس میں مومل کا کردار میں نے نبھایا ہے۔‘

ڈائریکٹر سراج الحق نے احسن خان اور صبا قمر کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنے کرداروں سے انصاف کیا۔‘

’مومل رانو‘ ایسی لڑکی کی کہانی ہے جسے اس کا محبوب بے وفائی کے شبے میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور وہ اس امید پراس کا انتظار کرتی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس کی محبت محبوب کو دوبارہ اس کے پاس کھینچ لائے گی۔

x

Check Also

آئندہ ملکی بجٹ پر تین صوبائی حکومتوں کا مرکزی حکومت سے اختلاف

پاکستان کے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ اور ترقیاتی پروگرام کے معاملے پر اختلاف کی وجہ سے منگل کو ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے بائیکاٹ کر دیا۔ یہ اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی، خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور بلوچستا ن کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس نے اجلاس سے بائیکاٹ کے بعد اسلام آباد میں  ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کی ۔ انہوں نے وفاق کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں ان کی صوبائی حکومتوں کی طرف سے تجویز کردہ اسکیموں کو شامل نا کرنے کا الزام وفاقی حکومت پر عائد کیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا" جو سفارشات ہم نے دی ہیں ان میں سے ایک بھی تجویز نہیں مانی گئی ہے اس میں انہوں (وفاقی حکومت) نے اپنی مرضی کی اسکیموں کو شامل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ جو  منصوبے ہم شامل کرنا چاہیں ہم کر سکتے ہیں۔" پرویز خٹک نے مزید کہا "اس پر ہم نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر آپ کو  یہ حق ہے تو پھر قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بلانے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔" صوبہ سند ھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مدت آئندہ ماہ ختم ہو جائے گی۔ اس لیے اسے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ " ہم نے اجلاس میں اپنا یہ نقطہ نظر رکھا کہ ہمارے خیال میں موجودہ وفاقی حکومت کو، جس کی مدت مئی میں ختم ہو جائے گی، اسے یہ حق نہیں ہے کہ  آئندہ مالی سال جو یکم جولائی کو شروع ہوتا ہے اس کے لیے پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ) کے منصوبے بنائے۔ وہ صرف جاری منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کر سکتی ہے۔" تاہم حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ آئینی طور پر موجودہ حکومت کے لیے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور پاکستان کے  وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت مالی سال 2018-2019ء کے لیے ایک متوازن بجٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow