ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’سرکاری سطح پر یا کسی عام مقام پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہونی چاہیئے۔ پیمرا کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام ٹیلیویژن چنیل فوری طور پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر بند کر دیں‘‘

ویلنٹائن ڈے کی تشہیر سے اجتناب کیا جائے: ’پیمرا‘ کی یاد دہانی

مدیحہ انور

عدالت کی جانب سے متواتر دوسرے سال بھی ویلنٹائن ڈے کو غیر اسلامی تعطیل قرار دیے جانے کے بعد، پاکستان نے ایک بار پھر دن کی تقریبات اور ذرائع ابلاغ کی کوریج پر بندش عائد کر دی ہے۔

فیصلے میں ویلنٹائن کے دن سے متعلق باتوں کے اشتہارات اور اشیا کی فروخت پر بندش لگائی گئی ہے۔

عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے گذشتہ ہفتے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لائنس داروں کو ہدایات دی ہیں، جن میں اُنھیں بندش سے متعلق یاددہانی کرائی گئی ہے۔

پیمرا کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’تعمیل کنندہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائن ڈے کے جشن کے بارے میں کوئی بات نہیں آنی چاہیئے، ناکہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں اس کی تشہیر ہونی چاہیئے‘‘۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’’سرکاری سطح پر یا کسی عام مقام پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہونی چاہیئے۔ پیمرا کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام ٹیلیویژن چنیل فوری طور پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر بند کر دیں‘‘۔

تیرہ فروری، 2017ء کو اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے ویلنٹائن ڈے سے متعلق ایک عرضداشت نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ یہ دن معاشرے میں ’’غیر اخلاقی حرکات، عریانیت اور بدتہذیبی‘‘ کو فروغ ملتا ہے۔

عدالت نے اسلام آباد کے کھلے مقامات پر اور سرکاری دفاتر میں ویلنٹائن ڈے جشن منانے پر ممانعت عائد کردی ہے، اور پیمرا کو مزید احکامات جاری کیے ہیں کہ ’’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائن ڈے کے جشن سے متعلق اور اس کے فروغ کے لیے کردار ادا نہ کیا جائے‘‘۔

میڈیا اداروں کو پیمرا کی اس یاددہانی کے بعد معاشرے کے مختلف حصوں کی جانب سے اس رومانوی جشن منائے جانے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ دِن محبت کے اظہار کا ایک موقع فراہم کرتا ہے، جب کہ دیگر یہ سوال کرتے ہیں آیا ایک اسلامی معاشرے میں اور مختلف ثقافتی اقدار کے حامل حضرات کے لیے اس کا کوئی جواز موجود ہے۔

سلیمہ ہاشمی لاہور کی ایک آرٹسٹ اور نامور تعلیم داں ہیں۔ اُنھوں نے نظام کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا، جس میں ’’بیکار باتوں‘‘ پر تو توجہ دی جاتی ہے، لیکن ایسے امور جو درحقیقت معاشرے اور ملک کے لیے اہمیت کے حامل ہیں اُن کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا۔

بقول اُن کے ’’محض ایک رومانوی دن منانے پر فیصلے دینے کے، کیاں ہماری عدالتوں کے پاس دھیان دینے کے لیے کوئی بہتر باتیں نہیں ہیں؟‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ویلنٹائن ڈے منانے یا اس کی مذمت کرنے سے ہمارے مذہب، روایات، سماج یا ثقافتی اقدار کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ہم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ بچیاں اور لڑکے محبت کے حق کے اظہار میں شریک ہوں، تو دراصل یہ بذات خود ایک مسئلہ ہونا چاہیئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی سوچ کے محور کو بدلیں اور حقیقت شناس بنیں‘‘۔

حالیہ برسوں کے دوران، ویلنٹائن ڈے کو خاصی مقبولیت ملی ہے، جہاں پاکستان کے نوجوان اس علامتی دِن اپنے پیاروں کو کارڈ، چاکلیٹ اور تحائف دیتے ہیں۔

لیکن اس زیادہ تر قدامت پسند معاشرے میں محبت کے اظہار کی اجازت نہیں ہے، جس کھلے انداز کو اسلام اور پاکستانی ثقافت کے خلاف عمل قرار دیا جاتا ہے۔

x

Check Also

صادق اور امین نہ رہنے والے کو آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔ سپریم کورٹ

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے مطابق عوامی نمائندوں کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے اور جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow