شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ جنوبی کوریا کا تین روزہ دورہ ختم کر کے واپس شمالی کوریا پہنچ گئی ہیں۔ دورے کے دوران اُنہوں نے اپنے بھائی کی طرف سے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کو پیونگ ینگ میں سربراہ ملاقات کی دعوت دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سربراہ ملاقات حقیقتاً وقوع پزیر ہو جاتی ہے تو یہ بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔2007 کے بعد سے دونوں کوریاؤں کے رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطح کے کوئی رابطے نہیں ہوئے ہیں۔ ​تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر کو موصول ہونے والی اس دعوت سے امریکہ سمیت جنوبی کوریا کے حلیف ممالک میں کسی حد تک پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر مائیک پینس نے، جو جنوبی کوریا میں ہونے والے ان سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، کہا ہے کہ اُنہوں نے جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ ایسی مجوزہ سربراہ ملاقات کے طریق کار پر بات چیت کی ہے اور جنوبی کوریا کو مشورہ دیا ہے کہ یہ ملاقات بغیر کسی پیشگی شرائط پر ہونی چاہئیے۔ کم جونگ اُن کی بہن کے اس تین روزہ دورے کو مبصرین نے نہایت دلچسپی سے دیکھا۔ کم یو جونگ اس دورے کے دوران انتہائی پرسکون دکھائی دیں اور جس والہانہ انداز میں اُن کا استقبال کیا گیا، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے اس دورے کو کس قدر اہمیت دی ہے۔ کم یو جونگ کے دورے کے دوران اُن کی تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی اور اُن کے چار باڈی گارڈ تمام وقت اُن کے ارد گرد موجود رہے۔ سرمائی اولمکس میں جب جنوبی کوریا کا قومی ترانا بجایا گیا تو کم یو جونگ احتراماً کھڑی ہو گئیں جسے وہاں موجود حاضرین نے بہت سراہا۔ اُن کے چہرے پر مسلسل موجود خفیف سی مسکراہٹ اور متانت نے جنوبی کوریا کے عوام پر مثبت تاثر چھوڑا۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کی طرف سے اُن کے اعزاز میں دئے گئے عشائیے میں بھی وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ ایک تقریب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کا یہ دورہ اچانک ہوا جس کی اُنہیں پہلے سے کوئی اُمید  نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ جنوبی کوریا میں بہت سی چیزیں مختلف اور عجیب ہوں گی لیکن یہاں آ کر احساس ہوا کہ بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں۔ کم یو جونگ نے اُمید ظاہر کی دونوں کوریا جلد متحد ہو سکیں گے اور جنوبی کوریا کے لوگ پیونگ ینگ میں لوگوں کو اپنا دوست پائیں گے۔ کم یو جونگ کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کی عمر 28 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ شمالی کوریا کے سابق لیڈر اور موجودہ لیڈر کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ اُن کی تعلیم سوٹزرلینڈ میں ہوئی اور اُن کے بھائی کم جونگ اُن نے اُنہیں پچھلے سال اکتوبر میں ملک کی اعلی ترین فیصلہ ساز کمیٹی میں نامزد کیا تھا۔ کوریا اکادمی آف پالیٹکس اینڈ لیڈرشپ کے سربراہ کم مان ہیون کا کہنا ہے کہ کم یو جونگ نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران جنوبی کوریا کے عوام پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اُنہوں نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ شمالی کوریا نے ملک سے باہر ایک نرم اور مثبت تاثر بھیجنے کی کوشش کی ہے اور کم یو جونگ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی بہن وطن لوٹ گئیں

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ جنوبی کوریا کا تین روزہ دورہ ختم کر کے واپس شمالی کوریا پہنچ گئی ہیں۔ دورے کے دوران اُنہوں نے اپنے بھائی کی طرف سے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کو پیونگ ینگ میں سربراہ ملاقات کی دعوت دی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سربراہ ملاقات حقیقتاً وقوع پزیر ہو جاتی ہے تو یہ بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔2007 کے بعد سے دونوں کوریاؤں کے رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطح کے کوئی رابطے نہیں ہوئے ہیں۔

​تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر کو موصول ہونے والی اس دعوت سے امریکہ سمیت جنوبی کوریا کے حلیف ممالک میں کسی حد تک پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر مائیک پینس نے، جو جنوبی کوریا میں ہونے والے ان سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، کہا ہے کہ اُنہوں نے جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ ایسی مجوزہ سربراہ ملاقات کے طریق کار پر بات چیت کی ہے اور جنوبی کوریا کو مشورہ دیا ہے کہ یہ ملاقات بغیر کسی پیشگی شرائط پر ہونی چاہئیے۔

کم جونگ اُن کی بہن کے اس تین روزہ دورے کو مبصرین نے نہایت دلچسپی سے دیکھا۔ کم یو جونگ اس دورے کے دوران انتہائی پرسکون دکھائی دیں اور جس والہانہ انداز میں اُن کا استقبال کیا گیا، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے اس دورے کو کس قدر اہمیت دی ہے۔

کم یو جونگ کے دورے کے دوران اُن کی تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی اور اُن کے چار باڈی گارڈ تمام وقت اُن کے ارد گرد موجود رہے۔ سرمائی اولمکس میں جب جنوبی کوریا کا قومی ترانا بجایا گیا تو کم یو جونگ احتراماً کھڑی ہو گئیں جسے وہاں موجود حاضرین نے بہت سراہا۔ اُن کے چہرے پر مسلسل موجود خفیف سی مسکراہٹ اور متانت نے جنوبی کوریا کے عوام پر مثبت تاثر چھوڑا۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کی طرف سے اُن کے اعزاز میں دئے گئے عشائیے میں بھی وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ ایک تقریب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کا یہ دورہ اچانک ہوا جس کی اُنہیں پہلے سے کوئی اُمید نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی تھیں کہ جنوبی کوریا میں بہت سی چیزیں مختلف اور عجیب ہوں گی لیکن یہاں آ کر احساس ہوا کہ بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں۔ کم یو جونگ نے اُمید ظاہر کی دونوں کوریا جلد متحد ہو سکیں گے اور جنوبی کوریا کے لوگ پیونگ ینگ میں لوگوں کو اپنا دوست پائیں گے۔

کم یو جونگ کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کی عمر 28 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ شمالی کوریا کے سابق لیڈر اور موجودہ لیڈر کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ اُن کی تعلیم سوٹزرلینڈ میں ہوئی اور اُن کے بھائی کم جونگ اُن نے اُنہیں پچھلے سال اکتوبر میں ملک کی اعلی ترین فیصلہ ساز کمیٹی میں نامزد کیا تھا۔

کوریا اکادمی آف پالیٹکس اینڈ لیڈرشپ کے سربراہ کم مان ہیون کا کہنا ہے کہ کم یو جونگ نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران جنوبی کوریا کے عوام پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اُنہوں نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ شمالی کوریا نے ملک سے باہر ایک نرم اور مثبت تاثر بھیجنے کی کوشش کی ہے اور کم یو جونگ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

x

Check Also

صادق اور امین نہ رہنے والے کو آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔ سپریم کورٹ

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے مطابق عوامی نمائندوں کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے اور جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نا اہل قرار دیتا ہے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow