پاکستان میں صدر مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کردیا ہے جس کے تحت سلامتی کونسل سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گرد قرار دی جائیں گی۔ وفاقی حکومت کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کردی ہے اور صدر مملکت نے1997 کے اس  ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ آرڈیننس کے تحت سلامتی کونسل کی طرف سے  دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گرد قرار دی جائیں گی اور ان تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوسکے گی۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے یہ آرڈیننس جاری کیا اور انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں شق کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی  آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کی پاکستان میں بھی گرفت کی جائے گی۔ پاکستان نیشنل  کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی(نیکٹا) کے مطابق اس وقت کالعدم تنظیموں کی  تعداد 66 ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والی آخری تنظیم جنداللہ ہے جسے 31 جنوری 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ نیکٹا کے مطابق چار تنظیمیں غلامان صحابہ، جماعت الدعوۃ، معمار ٹرسٹ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن واچ لسٹ پر ہیں۔ دو تنظیمیں اس وقت سلامتی کونسل کی قراداد 1267 کے مطابق فہرست میں ہیں جن میں الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں۔  ان دونوں تنظیموں کو یکم دسمبر 2005 میں شامل کیا گیا تھا لیکن یہ دونوں تنظیمیں پاکستان میں براہ راست کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل نہ تھیں لیکن اب ان کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس جاری

پاکستان میں صدر مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کردیا ہے جس کے تحت سلامتی کونسل سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گرد قرار دی جائیں گی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کردی ہے اور صدر مملکت نے1997 کے اس ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ آرڈیننس کے تحت سلامتی کونسل کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں پاکستان میں بھی دہشت گرد قرار دی جائیں گی اور ان تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوسکے گی۔

صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے یہ آرڈیننس جاری کیا اور انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں شق کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کی پاکستان میں بھی گرفت کی جائے گی۔

پاکستان نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی(نیکٹا) کے مطابق اس وقت کالعدم تنظیموں کی تعداد 66 ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والی آخری تنظیم جنداللہ ہے جسے 31 جنوری 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

نیکٹا کے مطابق چار تنظیمیں غلامان صحابہ، جماعت الدعوۃ، معمار ٹرسٹ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن واچ لسٹ پر ہیں۔

دو تنظیمیں اس وقت سلامتی کونسل کی قراداد 1267 کے مطابق فہرست میں ہیں جن میں الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں۔ ان دونوں تنظیموں کو یکم دسمبر 2005 میں شامل کیا گیا تھا لیکن یہ دونوں تنظیمیں پاکستان میں براہ راست کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل نہ تھیں لیکن اب ان کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

Leave a Reply

x

Check Also

افغانستان: گذشتہ سال شہری ہلاکتوں میں 9 فی صد کمی آئی

کابل میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، تنظیم کے سربراہ، تدامچی یاماموتو نے بتایا ہے کہ ’’یہ اعداد بہتر مستقبل کے حصول کی امیدوں پر پانی پھیرنے کا باعث بنتے ہیں‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow