بھارت کی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے کیمپ پر حملہ سرینگر کے کرن نگر علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے ہوا

بھارتی کشمیر میں حفاظتی دستوں کے ایک اور کیمپ پر عسکریت پسندوں کا حملہ۔ ایک ہلاک

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں کے ایک اہم فوجی ٹھکانے کے اندر محصور عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی ابھی جاری تھی کہ پیر کو علی الصباح سرینگر میں عسکریت پسندوں نے بھارتی حفاظتی دستوں کے ایک کیمپ میں زبردستی گھسنے کو کوشش کی۔ عہدیداروں کے مطابق، چوکس محافظوں نے اسے ناکام بنادیا تاہم ایک اہلکار عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ بھارت کی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کے کیمپ پر حملہ سرینگر کے کرن نگر علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے ہوا۔ فوجیوں کی جوابی فائرنگ کے ساتھ ہی حملہ آور ایک قریبی زیرِ تعمیر عمارت کے اندر دوڑے جسے حفاظتی دستوں نے فوری طور پر گھیرے میں لے لیا۔ طرفین کے درمیان گولوں کا تبادلہ آخری اطلاع آنے تک جاری تھا۔ عہدیداروں کے مطابق جھڑپ کے دوراں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری لشکرِ طیبہ نے قبول کی ہے۔

اُدھر جموں کے سنجوان علاقے میں واقع بھارتی فوج کے 36 بریگیڈ کے صدر دفاتر کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اس اہم فوجی ٹھکانے پر حملہ ہفتے کی صبح کیا گیا تھا اور اس میں پانچ فوجی اور ایک سویلین ہلاک اور ایک میجر سمیت گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فوج نے چار عسکریت پسندوں کو بھی ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پیر کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ پارلیمانی امور عبد الرحمٰن ویری نے صوبائی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ صرف تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ ان کے چوتھے ساتھی کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ وہ ابھی تک فوجی ٹھکانے کے اندر ایک عمارت میں محصور ہے۔

صورتِحال کا بہ نفسِ نفیس جائزہ لینے بھارت کی وزیرِ دفاع نرملا سیتھا رمن پیر کے روز جموں پہنچیں۔ اس سے پہلے اتوار کو بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی جموں آکر حالات کا جائزہ لیا تھا۔ عہدیداروں کے مطابق بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کی ایک ٹیم نے جو اتوار کو نئی دہلی سے جموں پہنچی تھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ عہدیداروں نے فوجی ٹھکانے پر کئے گئے حملے کے لئے عسکری تنظیم جیشِ محمد کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔

ان حملوں اور متنازعہ کشمیر میں بھارت-پاکستان سرحدوں پر گزشتہ تین ہفتے سے جاری گولہ باری کے پس منظر میں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ پیر کو ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا۔ ” اگر ہمیں خون خرابے کو بند کرنا ہے تو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا ناگزیر ہے۔ مجھے معلوم ہے آج رات (بھارتی) ٹی وی اینکر مجھے ملک دشمن قرار دے دینگے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ جموں و کشمیر کے لوگ مصیبت میں ہیں۔ ہمیں بات کرنی ہے کیونکہ جنگ آپشن نہیں ہے”-

x

Check Also

کوئٹہ: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ،ایک اہلکار سمیت تین ہلاک

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ میں ہفتہ کو لیویز کی گاڑی پر نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے لیویز کے ایک اہلکار اور اُس کے دو دوستوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈی ایس پی آپریشن نصیب اللہ کے مطابق ضلع سبی لیویز کے نائب تحصیلدار کی گاڑی میں سپاہی انور علی اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آیا ہوا تھا اپنے دو رشتے داروں کے ساتھعزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لئے قبرستان جا رہے تھے کہ راستے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ سے یہ تینوں افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں جب کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیر کور بلوچستان اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور شواہد جمع کئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے سر یاب کے علاقے میں فرنٹیر کور، پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر متعدد جان لیوا حملے ہوچکے ہیں جس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند اور بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے پچاسی فیصد علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نیم قبائلی فورس لیویز کی ہے اس فورس کی کُل تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پورے صوبے کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر کے ختم کردیا گیا جس کی صوبے کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائد ین نے سخت مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں 2008ء میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور اس فورس کے اہلکاروں کو فرنٹیر کور بلوچستان کے افسران کے ذریعے جدید تر بیت فراہم کی گئی تھی۔ لیویز فورس کا قیام انگر یزوں کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں حکومت کے ساتھ تعاون کر نے والے نوابوں اور سرداروں کے قبیلوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ۔  اس فورس کے اہلکاروں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ مئی 2014 میں خضدار کے قریب لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 8 اہلکاروں اور دسمبر 2015 میں ضلع پشین کے علاقے سر خاب میں لیویز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow