تحصیل پنڈ دادنخان کو تحصیل ملک وال کوملانے کے لیے پل کی تعمیرمیں تاخیر۔تحریر:ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ

قیام پاکستان کے ستر سالوں بعد بھی تحصیل پنڈ دادنخان کو تحصیل ملک وال سے ملانے کے لئے دریائے جہلم پر عام ٹریفک کے لئے پل تعمیر نہ ہو سکا ،کئی بار مسلم لیگ (ن ) ،پیپلز پارٹی کی حکومتیں آئیں مسلم لیگ (ق) کی حکومت کے علاوہ بڑے بڑے جرنیل تا دیر اقتدار پر قابض رہے لیکن کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ اس حلقہ کی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے چند ٹکے خرچ کر کے ایک راستہ ہی بنوا دیتے ،جبکہ ضلع جہلم کے سیاست دان بھی چک نظام کے مقام پر ٹریفک پل کی تعمیر کے نعرے بلند کر کے ووٹ حاصل کرتے رہے اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے لیکن پل تعمیر کرانے میں ہر بار بلکہ بار بار ناکام ہوتے رہے ،اگر جنرل ایوب خان یا وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیتے تو شاید یہ پل دس کروڑ روپے سے بیس کروڑ روپے کی مالیت سے تعمیر ہو جاتا اس کے بعد جنرل ضیاء الحق اور محمد خان جونیجو اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرتے تو شاید پچیس کروڑ روپے میں یہ معاملہ حل ہوجاتا تا ہم محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف اپنے پہلے ادوار میں دونوں تحصیلوں اور کئی اضلاع کے عوام کے ساتھ مخلص ہوتے تو شاید یہ پل تیس کروڑ سے چالیس کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو جاتا ،اس کے بعد جنرل پرویز مشرف ،آصف علی زرداری اور پھر میاں نواز شریف کا دور بھی گذر گیا ہمیشہ کی طرح لاکھوں عوام کو لالی پوپ ہی دیا گیا ،قوم کو مکے دکھانے والے لیڈر سابق صدر پرویز مشرف نے پنڈ دادنخان البیرونی ڈگری کالج میں آ کر دریائے جہلم پر تعمیر ہونے والے ٹریفک پل کی منظوری کا اعلان کیا اور ایک ارب 55کروڑ روپے مالیت کی منظوری دی اور دلیر لیڈر نے دریائے جہلم کے کنارے جانے کی بجائے البیرونی ڈگری کالج پنڈ دادنخان میں ہی سنگ بنیاد کی تختی کی نقاب کشائی کی اس کے بعد زرداری صاحب کی باری آئی تو وہ ملکوال میں ہی بیٹھ کر زبانی جمع تفریق کرتے رہے اس کے بعد باری باری حکومتیں قائم کرنے والوں کی ایک بار پھر باری آ گئی تو مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم میاں نوا ز شریف اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو گئے اور ان کے دور میں دریائے جہلم پر قائم وکٹوریہ ریلوے برج کی دونوں جانب سے گذرنے والے راستے بھی عوام کے لئے بند کر دئیے گئے ،جس کے باعث پنڈ دادنخان سے ملکوال جانے والے لوگوں کو ایک بار پھر کشتیوں کے ذریعے دریائے جہلم عبور کرنے پر مجبور کر دیا گیا عوام سائیکل اور موٹر سائیکل کشتیوں پر لوڈ کر کے آتے جاتے ہیں جس پر کم از کم ان کے دو سوروپے روزانہ کی بنیاد پر خرچ ہوتے ہیں اور بچے بوڑھے نوجوان اور خواتین ذلیل و خوار ہو رہے ہیں لیکن ضلع جہلم ،ضلع منڈی بہاوالدین اور ضلع سرگودھا کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز وکٹوریہ ریلوے برج سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں کے لئے کھلوانے میں ناکام رہے ،تا ہم ضلع منڈی بہاؤالدین کے ایم این اے ناصر بوسال چند سالوں سے دریائے جہلم پر ٹریفک پل کی تعمیر کی نوید سناتے آ رہے ہیں تا ہم انھوں نے گزشتہ دنوں ملکوال میں ایک تقریب منعقد کرائی جس میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو مدعو کیا گیا جہنوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جسے پنڈ دادنخان ملکوال ٹریفک پل کے سنگ بنیاد کا نام دیا گیا لیکن وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف پی ٹی آئی کے قائد عمران خان پر برسنے کے بعد ضلع منڈی بہاؤالدین کے لئے23ارب کے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات بتاتے رہے لیکن اپنی پوری تقریر میں انھوں نے ملکوال کو پنڈ دادنخان سے ملانے والے دریائے جہلم پل کی تعمیر کا کہیں ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس پل پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ بتایا اور نہ ہی پل تعمیر ہونے کا ٹائم فریم دیا تا ہم اسی جلسہ گاہ میں سنگ بنیاد کی لگی ہوئی تختی کی نقاب کشائی ضرور کی جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس جلسہ سے قبل اخبارات میں شائع ہونے والے دیگر تمام منصوبہ جات کی تفصیل درج تھی ،لیکن اس اشتہار میں بھی ٹریفک پل کا کہیں ذکر نہیں تھا ،جس پر حلقہ کے عوام میں طرح طرح کے وسوے پائے جاتے ہیں او ر عوام میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے کہ کہیں یہ سنگ بنیاد آئندہ عام انتخابات کی کمپین کا حصہ تو نہیں تا ہم اس جلسے کے بعد وزیر اعلی پنجاب کے کسی خاص آدمی نے سوشل میڈیا پر عوام سے تقریر میں پل کا ذکر نہ کرنے پر وزیر اعلی کی جانب سے معذرت بھی کی ہے ستر سالوں سے عوام کا مطالبہ چک نظام پل کی تعمیر تھا لیکن اب نواں لوک چک حمید پل کے نام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور روٹ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے تا ہم دریائے جہلم پر اس پل کی تعمیر نہایت ضروری ہے کیونکہ تحصیل پنڈ دادنخان کے لاکھوں عوام کو چند منٹوں کی مسافت کے لئے دن بھر کی سخت سفری صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں جبکہ اس روٹ پر ٹرینوں کی تعداد درجنوں میں ہوا کرتی تھی جو آج گھٹتی گھٹتی ایک یا دو ٹرنیں رہ گئی ہیں علاقہ کے عوام سے ریلوے کی سفری سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں دریں اثناء دریائے جہلم پرپل تعمیر کا مطالبہ عرصہ بیس سالوں سے جس طرح روز نامہ اوصاف اسلام آباد اجاگر کر رہا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ،دی جہلم میں اس نہایت ہی اہم مسئلہ پر سینکٹروں سروے رپورٹس اور مضامین شائع کئے جا چکے ہیں ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow