پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہرحال میں ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ عدلیہ جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دے گی۔ چیف جسٹس کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بعض حلقے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی وجہ سے جمہوری نظام کے مستقل کے حوالے سے خدشات اور وسوسوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی گزشتہ مہینےملک میں جمہوری نظام کے مستقبل سے متعلق اپنے  خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا  کہ شاید حکومت اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کرسکیں۔ چیف جسٹس نے ہفتے کو لاہور میں وکلاء برداری کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ "اس ملک میں قانون کی حکمرانی رہے گی، صرف آئین کی حکمرانی رہے گی۔۔ہم اس ملک میں جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔۔ یہ میرے دوستوں کا اپنے آپ سے عہد ہے یہ میرے دوستوں کا آئندہ نسلوں سے عہد ہے یہ میرے دوستوں کا اپنی قوم سے عہد ہے اور آپ ہمیں اس عہد سے پیچھے نہیں پائیں گے۔" بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو یہ بیان شاید اس لیے دینا پڑا کیونکہ ان کے بقول کچھ حلقوں کی طرف سے عدلیہ کے ماضی میں دیے گئے فیصلوں پر تنقید ہورہی ہے جن میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے غیر جمہوری قوتوں کے اقدامات کو قانونی جواز فراہم کیا۔   سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آج کل جو ماحول ہے اس میں یہ باتیں کہی جارہی ہیں اور وسوسے پیدا ہو رہے ہیں کہ ہماری جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اتر جائے گی اور پھر اس کے نتیجے میں حکومت چلانے کا کوئی ایسا انتظام آئے گا جو شاید آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوگا اور شاید انہیں باتوں کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کی ہے ۔"  احمد بلال نے مزید کہاکہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ آئین و قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے عزم اظہار کیا جارہا ہے تاہم ان کے بقول  چیف جسٹس کے بیان کے تناظر میں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف آئین شنکی کے مقدمے کا ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا ہے۔  سابق وزیر اعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ سال انھیں نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے پر تواتر کے ساتھ تنقید کرتے آرہے ہیں۔  ہفتہ کو ہری پور میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب میں نواز شریف نے ایک بار پھر اپنے خلاف دئیے گئے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلا امتیاز انصاف فراہم کرنے کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر حکمران جماعت اور دیگر حلقوں کی طرف سے ہونے والی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے آئین کے مطابق ہیں اور اس کے برعکس تاثر دینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔  دوسری طرف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کی صورت حال کا دیکھی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف عدالتی فیصلے پرکسی بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

‘جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے’

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہرحال میں ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ عدلیہ جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دے گی۔

چیف جسٹس کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بعض حلقے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی وجہ سے جمہوری نظام کے مستقل کے حوالے سے خدشات اور وسوسوں کا اظہار کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی گزشتہ مہینےملک میں جمہوری نظام کے مستقبل سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاید حکومت اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کرسکیں۔

چیف جسٹس نے ہفتے کو لاہور میں وکلاء برداری کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ “اس ملک میں قانون کی حکمرانی رہے گی، صرف آئین کی حکمرانی رہے گی۔۔ہم اس ملک میں جمہوریت کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔۔ یہ میرے دوستوں کا اپنے آپ سے عہد ہے یہ میرے دوستوں کا آئندہ نسلوں سے عہد ہے یہ میرے دوستوں کا اپنی قوم سے عہد ہے اور آپ ہمیں اس عہد سے پیچھے نہیں پائیں گے۔”

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو یہ بیان شاید اس لیے دینا پڑا کیونکہ ان کے بقول کچھ حلقوں کی طرف سے عدلیہ کے ماضی میں دیے گئے فیصلوں پر تنقید ہورہی ہے جن میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے غیر جمہوری قوتوں کے اقدامات کو قانونی جواز فراہم کیا۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “آج کل جو ماحول ہے اس میں یہ باتیں کہی جارہی ہیں اور وسوسے پیدا ہو رہے ہیں کہ ہماری جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اتر جائے گی اور پھر اس کے نتیجے میں حکومت چلانے کا کوئی ایسا انتظام آئے گا جو شاید آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوگا اور شاید انہیں باتوں کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کی ہے ۔”

احمد بلال نے مزید کہاکہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ آئین و قانون اور جمہوریت کے تحفظ کے عزم اظہار کیا جارہا ہے تاہم ان کے بقول چیف جسٹس کے بیان کے تناظر میں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف آئین شنکی کے مقدمے کا ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا ہے۔

سابق وزیر اعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ سال انھیں نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے پر تواتر کے ساتھ تنقید کرتے آرہے ہیں۔

ہفتہ کو ہری پور میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب میں نواز شریف نے ایک بار پھر اپنے خلاف دئیے گئے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلا امتیاز انصاف فراہم کرنے کے لیے ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر حکمران جماعت اور دیگر حلقوں کی طرف سے ہونے والی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے آئین کے مطابق ہیں اور اس کے برعکس تاثر دینا کسی طور مناسب نہیں ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کی صورت حال کا دیکھی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف عدالتی فیصلے پرکسی بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

x

Check Also

افغانستان: گذشتہ سال شہری ہلاکتوں میں 9 فی صد کمی آئی

کابل میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، تنظیم کے سربراہ، تدامچی یاماموتو نے بتایا ہے کہ ’’یہ اعداد بہتر مستقبل کے حصول کی امیدوں پر پانی پھیرنے کا باعث بنتے ہیں‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow