ایم این اے ،ایم پی اے اور گلیاں نالیاں ۔تحریر: ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ

1۔حلقہ این اے 63جہلم وحلقہ پی پی27پنڈ دادنخان کے مواضعات میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کے لئے سیوریج سسٹم لگوا دیا جائے تو نالیوں گلیوں کی سیاست کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔َ
2۔َہر دور حکومت میں بار بار گلیوں نالیوں کی تعمیر پر پیسہ خرچ کر کے ضائع کر دیا جاتا ہےَ ۔
3۔گندی سیاست کر کے لوگوں کے ضمیر خریدے جاتے ہیں ۔
ایم این اے ،ایم پی اے اور گلیاں نالیاں ۔تحریر: ملک ظہیر اعوان ٹوبھہ

حلقہ این اے63جہلم و حلقہ پی پی27پنڈ دادنخان میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے دور سے آج وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور تک ایم این اے اور ایم پی اے کو گلیوں نالیوں کی سیاست تک محدود کر رکھا ہے کسی بھی دور میں کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سیاسی حکومتی نمائندوں نے سر انجام نہیں دیا ،جس سے عوام الناس کو کوئی ڈائریکٹ فوائد مل رہے ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا میگا پراجیکٹ مکمل کروایا ہے جس سے لاکھوں عوام مستفید ہو رہے ہوں ،تا ہم یہ منتخب حکومتی نمائندے صرف گلیاں نالیاں ہی تعمیر نہیں کرواتے بلکہ گلیوں نالیوں پر سیاست بھی کرتے ہیں ،جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نالیوں گلیوں کی سیاست کرنے والا ہمیشہ گندی سیاست ہی کرے گا اس پر اچھائی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی ،حلقہ این اے63جہلم کے ایم این اے راجہ مطلوب مہدی کو تقریبا45کروڑ روپے کے فنڈز ملے ہیں جن میں سے انھوں نے تقریباً25کروڑ روپے گلیوں نالیوں میں جھونک دئیے ہیں تا کہ پھتو کے مکان سے نتھو کے مکان تک گلی نالی پختہ ہو جائے کیونکہ ان دونوں نے ہمیں ووٹ دئیے تھے ،جبکہ خیر و کے گھر تک اس لئے نالی پختہ نہیں کرنی کہ اس نے ہمیں ووٹ نہیں دئیے تھے اسی طرح حلقہ پی پی27پنڈ دادنخان کے ایم پی اے چوہدری نذر حسین گوندل کوگلیوں نالیوں کی نظر کرنے کے لئے تقریباً ساڑھے بارہ کروڑ روپے دئیے گئے وہ بھی ریوڑیوں کی طرح بانٹ دئیے گئے 1985سے قبل اور بعد میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو قانون سازی سے ہٹا کر گلیوں نالیوں کی سیاست میں ایسے الجھایا کہ آج تک کوئی بھی مائی کا لال اس مسئلے کو سلجھا نہیں سکا بلکہ یہ گلیوں نالیوں کی سیاست مزید طول ہی پکڑ تی گئی ،حالانکہ اس دورانیے میں کئی بلدیاتی ادوار بھی آئے بلکہ آج 2018میں بھی بلدیاتی نظام قائم ہے لیکن چئیرمین ضلع کونسل جہلم راجہ قاسم علی خان کے پلے کچھ بھی نہیں ،انھیں سرکاری گاڑی تو مل گئی ہے وہ اس پر ہی خوش ہیں جس پر سوار ہو کر وہ ولیموں اور میچوں پر باآسانی پہنچ جاتے ہیں ۔حکومت کو چائیے کہ جب بلدیاتی نظام قائم ہو وہ ایم این اے اور ایم پی اے کو گلیوں نالیوں کی سیاست سے الگ کر دئے ، اور تمام فنڈز بلدیاتی نمائندوں کو دائریکٹ دے، ہر یونین کونسل میں چئیرمین اور کونسلرز موجود ہیں ہر میونسپل کمیٹی میں چئیرمین اور کونسلرز بیٹھے ہیں ڈسٹرکٹ کا چئیرمین موجود ہے پھر بھی مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کے فنڈز منصوبوں کی صورت میں ہر یونین کونسل کے چئیرمین کو دئیے جاتے ہیں جس یو سی میں مسلم لیگ ن کا چئیرمین نہیں وہاں ن لیگ کے ہارے ہوئے امید وار کی وساطت سے گلیوں نالیوں کے منصوبے دئیے جا تے ہیں ،جبکہ ان دونوں حلقوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنے خاص پیاروں کی وساطت سے بھی فنڈز دئیے جاتے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں انھیں باآسانی ووٹ دلوا سکیں ،یہ فنڈز چہتوں کو خصوصی طور پربطور نوازشات دئیے جاتے ہیں نہ کہ ترقیاتی کاموں کی نیت سے دئیے جاتے ہیں یہاں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاستدانوں نے اپنے چہتے ٹھیکیدار بھی بنوا رکھے ہیں تا کہ ان پر بھی نوازشات کی بارش برسائی جا سکے اور وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو سکیں ،تا ہم حلقہ کے ایم این اے راجہ مطلوب مہدی نے بجلی کے نئے پول لگوانے کے لئے تقریباً بیس کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے ہیں اللہ کرے ان فنڈز سے جلد از جلد بجلی کے نئے پول نصب ہو جائیں اگر حلقہ این اے63جہلم اور حلقہ پی پی27پنڈ دادنخان سمیت پنجاب بھر میں گلیوں اور نالیوں پر کروڑوں ،اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اگر تمام چھوٹے بڑے دیہاتوں ،قصبات اور شہروں میں سیوریج سسٹم لگوا دیا جائے تو زندگی بھر کے لئے گلیوں نالیوں کی سیاست کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے ۔

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow