بداخلاقی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔پیر سید نعمان شاہ

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری مہربان حسین )بداخلاقی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے ،سانحہ قصور، سانحہ مردان میں معصوم بچیوں کو بد اخلاقی کے بعد جس بے دردی سے قتل کیا گیا ایسے ملزمان کو سرعام سنگسار کیا جائے ،قصور اور مردان میں معصوم بچیوں سے بد اخلاقی کے بعد قتل کی وارداتوں پر دل خون کے آنسو روتا ہے ایسے انسان کسی رعایت کے مستحق نہیں اور نہ ہی وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی و مذہبی شخصیت پیر سید نعمان شاہ نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ2 سال سے قصور میں جس قدر جنسی جرائم میں اضافہ ہوا اور جرائم میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کا نہ ہونا پنجاب پولیس کے ارباب اختیار کے لئے سوالیہ نشان ہے ۔ اس واقعہ کے بعد صرف ڈی پی او کو معطل کرنا جرائم کو مزید تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ڈی آئی جی کو ، ڈی پی او اورایس ایچ او کومعطل کرنے کی بجائے گرفتار کروانا چاہیے تھا اس سے قبل چھوڑے گئے جرائم پیشہ افراد کو چھڑانے والے رہنماؤں جن میں ایم این ایز اورایم پی ایز کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہیے تھی اور اس جرم میں انکو بھی پابند سلاسل کیا جانا چاہیے تھا ۔جبکہ مردان کی 4سالہ عاصمہ کے گھر والے بھی انصاف کے منتظر ہیں ،ایسے واقعات اب ناقابل برداشت ہو چکے ہیں ہمیں ملک میں اسلامی قانون کانفاذ کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور آئی جی خیبر پختونخواہ فوری طور پر صوبہ بھر میں ایسے سیاسی عناصر جو جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے ہیں انکے کوائف چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹ کو فراہم کریں، تاکہ مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے رہنماؤں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہو سکے، جن سیاسی عناصر کے ڈیروں اور دفتروں میں جرائم پیشہ افراد بطور کار خاص کام کر رہے ہیں انہیں آنکھ جھپکنے سے قبل گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ صوبہ بھر کے تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کو فوری طو رپر علاقہ میں کسی بھی واقعہ پر ذمہ
دار قرار دیا جائے تاکہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں مقامی ایم این ایز ،و ایم پی ایز مداخلت نہ کر سکیں اگر کوئی ایم پی اے یا ایم پی اے مداخلت کرے تو اس کے خلاف فوری رپٹ درج کی جائے ، تاکہ جرائم کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ پولیس کو رینجرز کی طرح فعال کیا جائے،انہوں نے مزید کہا کہ 6 ماہ کیلئے پولیس کے ضلعی دفتروں میں رینجرز پولیس کے افسران کو تعینات کیے جائیں یا پورے نظام کو عارضی طور پر رینجرز اور ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔ان واقعات نے ملک کے کونے کونے میں ہر شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ان واقعات پر صرف مذمت کرنا ہی کافی نہیں عملی اقدامات بھی کرنے ہونگے، زینب اور عاصمہ واقعہ سے پہلے بھی کئی باپ اپنی معصوم بیٹیوں کو اسی حالت میں دفنا چکے ہیں ، ایسے واقعات پر ہم مذمت کرتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں ، سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اپنی سیاست چمکانے اور اپنے فائدے کے لئے ملک کا نقصان کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے ہمیں ملکر اپنے معاشرے کو صاف کرنا ہے ہم عہد کریں کہ بلا جھجھک اپنے اپنے بچوں میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے شعور اجاگر کریں ، غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں ، محلے داروں اور اردگرد کے اوباشوں پر نظر رکھتے ہوئے کسی بھی مشکوک شخص کو اپنے بچوں کے قریب آنے سے روکیں ، خواہ کوئی آپ سے کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سکولوں میں بچوں کو انکی اپنی حفاظت کے حوالے سے آگاہی پروگرامز کا انعقاد کریں اور نصاب کا حصہ بنائیں ۔حکومت بد اخلاقی کرنے والے ملزمان کے لئے سزائے موت کا قانون پاس کریں اور اس میں کسی بھی طرح صلح کی کوئی گنجائش باقی نہ ہو تو راتوں رات بد اخلاقی کے واقعات میں تیزی سے کمی واقع ہو گی لیکن اس کے لئے ہمیں سیاست سے بالا تر ہو کر قانون سازی کرنا ہوگی۔

x

Check Also

جہلم اورگجرات سے تعلق رکھنے والے کبڈی کے معروف کھلاڑیوں کی زیرسرپرستی ون ڈے ٹورنامنٹ کاانعقاد

جہلم(چوہدری سہیل عزیز)جہلم اورگجرات سے تعلق رکھنے والے کبڈی کے معروف کھلاڑیوں کی زیرسرپرستی ون ...

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow