امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سخت تعزیرات کو اس بنا پر تیسری مرتبہ موخر کر دیا ہے تا کہ تہران اپنے جوہری ہتھیاروں کی تحقیق کر ترک کر دے۔ جمعہ کو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ تیسری اور آخری مرتبہ ان تعزیرات پر چھوٹ دے رہے ہیں تا کہ کانگریس اور یورپی اتحادی 120 روز میں ایران سے جوہری معاہدے میں بہتری لائیں بصورت دیگر امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا۔ صدر کی طرف سے "معاہدے کے تباہ کن نقائص" کو دورے کرنے کی تجاویز میں ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کے ساتھ ساتھ تہران کی طرف سے یہ یقین دہانی حاصل کرنا بھی شامل ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ وائٹ ہاوس کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا۔ ٹرمپ کا بیان میں کہنا تھا کہ "ایسے معاہدے کی عدم موجودگی میں امریکہ تعزیرات میں نرمی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی موقع پر اسے یہ محسوس ہوا کہ ایسے معاہدے کی پاسداری نہیں ہو رہی تو میں فوراً اس معاہدے سے علیحدہ ہو جاوں گا۔" ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے "ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔" مزید برآں امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ایران کے چند کاروباری شعبوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں 14 ادارے اور شخصیات شامل ہیں۔ ان میں قابل ذکر ایران کی عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی ہیں اور امریکی محکمہ خزانہ کے بقول لاریجانی کا ادارہ ایرانی عوام کے خلاف "انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں" کا مبینہ مرتکب ہوا۔ پابندی کا نشانہ بننے والے دیگر اداروں میں پاسداران انقلاب کا سائبر یونٹ بھی شامل ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق عوام کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود بنا رہا ہے۔

ایران سے معاہدے کی غلطیوں کو دور نہ کرنے پر ٹرمپ کا انتباہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سخت تعزیرات کو اس بنا پر تیسری مرتبہ موخر کر دیا ہے تا کہ تہران اپنے جوہری ہتھیاروں کی تحقیق کر ترک کر دے۔

جمعہ کو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ تیسری اور آخری مرتبہ ان تعزیرات پر چھوٹ دے رہے ہیں تا کہ کانگریس اور یورپی اتحادی 120 روز میں ایران سے جوہری معاہدے میں بہتری لائیں بصورت دیگر امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا۔

صدر کی طرف سے “معاہدے کے تباہ کن نقائص” کو دورے کرنے کی تجاویز میں ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کے ساتھ ساتھ تہران کی طرف سے یہ یقین دہانی حاصل کرنا بھی شامل ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاوس کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا۔

ٹرمپ کا بیان میں کہنا تھا کہ “ایسے معاہدے کی عدم موجودگی میں امریکہ تعزیرات میں نرمی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی موقع پر اسے یہ محسوس ہوا کہ ایسے معاہدے کی پاسداری نہیں ہو رہی تو میں فوراً اس معاہدے سے علیحدہ ہو جاوں گا۔”

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے “ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔”

مزید برآں امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ایران کے چند کاروباری شعبوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں 14 ادارے اور شخصیات شامل ہیں۔

ان میں قابل ذکر ایران کی عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی ہیں اور امریکی محکمہ خزانہ کے بقول لاریجانی کا ادارہ ایرانی عوام کے خلاف “انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں” کا مبینہ مرتکب ہوا۔

پابندی کا نشانہ بننے والے دیگر اداروں میں پاسداران انقلاب کا سائبر یونٹ بھی شامل ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق عوام کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود بنا رہا ہے۔

x

Check Also

ورلڈ کپ فٹ بال: میکسیکو نے جرمنی کو ہرا کر بڑا اپ سیٹ کر دیا

فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے ایک اہم مقابلے میں میکسیکو نے دفاعی چیمپین جرمنی کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے ہرا کر ٹورنمنٹ کا بڑا اپ سیٹ کر دیا ہے۔ میچ کے دوران میکسیکو کی ٹیم نے مسلسل جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا ۔ میکسیکو کی ٹیم کی خاصیت جوابی حملوں میں اس کے کھلاڑیوں کی چستی اور برق رفتاری تھی۔ میکسیکو کے لوزانو، ہیویئر  ہرنینڈس اور کارلوس ویلا نے انتہائی مربوط انداز میں ایک دوسرے کو پاس دے کر جارحانہ حملے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور جرمن ٹیم کے مشہور فارورڈ جوشووا کیمیچ کو مکمل طور پر بے اثر کئے رکھا۔ اگرچہ زیادہ وقت بال جرمن کھلاڑیوں کے پاس رہا، تاہم میکسیکو کے کھلاڑیوں نے حاضر دماغی سے چالیں چلتے ہوئے دفاعی چیمپین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور کھیل کے 35 ویں منٹ میں لوزانو نے گول کر کے میکسیکو کو ایک گول کی برتری دلا دی جو آخر تک قائم رہی۔ آج ایک اور اہم میچ میں سوٹزرلینڈ اور برازیل کے درمیان مقابلہ ایک ایک گول سے برابر رہا۔ میچ سے قبل توقع تھی کہ پانچ بار ورلڈ کپ کی فاتح رہنے والی ٹیم برازیل یہ میچ آسانی سے جیت لے گی۔ لیکن سوٹزرلینڈ نے برازیل کو  مزید گول سکور کرنے  کا موقع نہیں دیا۔ اس میچ کے 20 ویں منٹ میں برازیل کے کھلاڑی فلپ کوٹن ہو نے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی جو ہاف ٹائم تک برقرار رہی۔ لیکن کھیل کے 50 ویں منٹ میں سوٹزرلینڈ کے کھلاڑی سٹیون زوبر نے ہیڈ کے ذریعے گول کر کے سکور برابر کر دیا۔ فٹبال ورلڈ کپ کا آغاز جمعرات کے روز ماسکو کے لوژنیکی سٹیڈیم میں ہوا اور پہلے میچ میں میزبان ملک روس کی ٹیم نے سعودی عرب کو صفر کے مقابلے میں 5 گول سے ہرا دیا۔ اگلے روز جمعہ کے دن تین میچ کھیلے گئے۔ یوروگوئے نے مصر کو 1-0 اور ایران نے مراکش کو 1-0 ہی کے سکور سے ہرایا جبکہ سپین اور پرتگال کا میچ 3/3 گول سے برابر رہا۔ کل ہفتے کے روز چار میچ کھیلے گئے۔ فرانس نے آسٹریلیا کے خلاف 2-1 سے فتح حاصل کی، آئس لینڈ اور ارجنٹینا کا میچ ایک ایک گول سے برابر رہا، ڈنمارک نے پیرو کو 1-0 سے شکست دی اور کروئشیا نے نائجیریا کو صفر کے مقابلے 2 گول سے ہرا دیا۔ آج اتوار کے روز بھی تین میچ کھیلے گئے۔ پہلے میچ میں سربیا نے کوسٹا ریکا کے خلاف صفر کے مقابلے میں ایک گول سے کامیابی حاصل کی اور دوسرے میچ میں میکسیکو نے دفاعی چیمپین جرمنی کو 1-0 سے ہرا کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ آج کا تیسرا میچ برازیل اور سوٹزرلینڈ کے درمیان  ایک ایک گول سے برابر رہا۔ کل پیر کے روز سویڈن کا مقابلہ جنوبی کوریا سے، بیلجیم کا مقابلہ پاناما سے اور تیونس کا مقابلہ انگلینڈ سے ہو گا۔ ورلڈ کپ کا فائنل 15 جولائی کو کھیلا جائے گا۔  

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow