دینی پیغامات میں بے احتیاطی افسوس ناک اور غور طلب پہلوہے۔ سلیمان پارس شمس القمر نقشبندی

جہلم(چوہدری عابد محمود +چوہدری ظفرنور)دینی پیغامات میں بے احتیاطی افسوس ناک اور غور طلب پہلو ،اگر کسی نے دین میں افراط و تفریط کرکے اسے پھیلایا تو وہ صرف گناہ نہیں، بلکہ گناہِ عظیم ہوجاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارخادم دربار سلیمان پارس شمس القمر نقشبندی نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے کا تاکید کے ساتھ حکم دیتے ہیں اور جھوٹ بولنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے دین میں افراط و تفریط کرکے اسے پھیلایا تو وہ صرف گناہ نہیں، بلکہ گناہ عظیم ہوجاتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد محکم، مضبوط، معتبر، معتمد اور مستند ہے، اس میں کمزور، مشکوک، اندازے اور تخمینے نہیں چلتے۔اسلامی تعلیمات بارے اشاعت، حفاظت، تعلیم و تبلیغ اور تفہیم میں علمائے کرام نے بہت محنت سے کام کیا ہے، محدثین اور کتب احادیث کے مختلف طبقات مقرر کیے گئے۔ یہ معاملہ اس قدر نازک اور حسّاس ہے کہ اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات یا کام کی نسبت جھوٹ کے طور پر کردے، یعنی بات واقعتا درست بھی ہو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد نہ فرمائی ہو یا کام بلکہ درست اور جائز ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ فرمایا ہو اور کوئی شخص اپنی طرف سے اس بات یا کام کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔بعض لوگوں کی یہ عادت بہت بْری ہوتی ہے کہ وہ علماء پر اپنا علم باور کرانا چاہتے ہیں، یا علماء سے مقابلے کی صورت پیدا کر لیتے ہیں۔ ایسے شخص کے بارے حدیث مبارک میں بہت سخت وعید آئی ہے۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جو شخص علم (دین) اس لیے سیکھے تاکہ اس کے ذریعے سے علماء سے جھگڑا کر سکے، تو اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔

Leave a Reply

x

Check Also

دینہ کے نواحی علاقہ میں پولیس نے دورانِ گشت ملزم سے 30بور پسٹل برآمد کر لیا اور مقدمہ درج کر لیا

  دینہ (امجدسیٹھی)دینہ کے نواحی علاقہ میں پولیس نے دورانِ گشت ملزم سے 30بور پسٹل ...

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow