ماڈل ٹاؤن واقعہ کا انصاف ہوتا،توقصور اور دیگر علاقوں میں ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔سابق سینیٹر و رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد

جہلم(راجہ نو بہار خان)سانحہ قصور کے حوالے سے قصور والوں کا اس کے علاوہ کوئی قصور نظر نہیں آتا کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو منتخب کیا ہے جو ان کے جان ومال اور آبرو کی حفاظت میں مسلسل ناکام رہے ہیں ۔ اس سے قبل جو بارہ واقعات جو صرف قصور میں ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی انصاف نہیں مل سکا،شریف خاندان پورے ملک میں تحریک عدل چلانے کی بجائے صرف قصور کے بے قصوروں اور معصوموں کو انصاف دلا دیں ،یہ واقعات حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کے باعث رونما ہوتے جارہے ہیں۔ان خیالات کااظہار جمعیت علماء اسلام (ف)کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق سینیٹر و رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد نے آج جہلم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نامور علماء دین شیخ الحدیث مولانا قاری ظفر اقبال،شیخ الستاز مولانا قاری عبدالودود خان،جمعیت علماء اسلام (ف)کے ضلعی جنرل سیکرٹری میاں محمد رفیق کے علاوہ جمعیت کے کارکن موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوم اور شہیدوں کو اگر انصاف مل گیا ہوتا تو قصور اور دیگر علاقوں میں ایسے واقعات رونما نہ ہوتے ،انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام (ف)جو اپوزیشن میں ہے وہ
اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کریگی،نئے وزیراعلیٰ کی حمایت اور مخالفت کا فیصلہ صوبائی پارلیمانی پارٹی ہی کریگی،لیکن ہم جمہوری سسٹم کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہم نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی مسلم لیگ ن کے اراکان اور وزراء نے خود حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی،ہم نے صرف ان کا ساتھ دیا یہ وفاق میں بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی ن سے ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف تحریک عدل چلانا چاہتے ہیں یعنی بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کردار اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں کیونکہ وہ اپوزیشن بھی کررہے ہیں اور حکومت بھی اور یہی کچھ بلوچستان میں ہوا جمعیت علماء اسلام (ف)کسی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوگی لیکن حکومت سازی کے حوالے سے اور جمہوری اداروں کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کریگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خربوزے سے خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اورصوبہ بلوچستان سے دیگر صوبے بھی رنگ پکڑ سکتے ہیں ،کیونکہ بلوچستان کی سرحدیں سندھ اور خیبر پختونخواہ سے ملتی ہیں ۔انہوں نے اپنے انداز میں کہا کہ پہلے وفاق سے ایک آواز آتی اور مسلسل آرہی ہے کہ مجھے کیوں نکالا اور اب یہی آواز صوبہ بلوچستان سے بھی آنے لگی ہے۔جبکہ یہ مرض متعدی بھی ہو سکتا ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن جب معاملات میں پھنس جاتی ہے تو اپنے اتحادیوں کو مراعات دینے کی کوشش کرتی ہے ،کیونکہ اس عادت سے مجبور ہے لیکن جمعیت علماء اسلام (ف)نے وفاق میں حکومت کا ساتھ دیا جبکہ صوبہ بلوچستان میں ہم ساڑھے چار سال سے اپوزیشن میں تھے جبکہ ہم نے دونوں پوزیشنوں پر حق ادا کیا ہے اور ہم کسی ڈوبتی کشتی میں بیٹھنا نہیں چاہتے ،البتہ بلوچستان کی ہماری اپوزیشن کے اثرات وفاقی سطح پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔انہوں نے گورنر بلوچستان بننے کی آفر کے سوال پر کہا کہ ڈوبتی کشی میں بیٹھنا ہمارے لیے نہ تو مناسب ہے اور نہ یہ بات ہمارے اصول میں ہے ،اور نہ ہی اس طرح کا عہدہ ہم قبول کریں گے۔

Leave a Reply

x

Check Also

دینہ کے نواحی علاقہ میں پولیس نے دورانِ گشت ملزم سے 30بور پسٹل برآمد کر لیا اور مقدمہ درج کر لیا

  دینہ (امجدسیٹھی)دینہ کے نواحی علاقہ میں پولیس نے دورانِ گشت ملزم سے 30بور پسٹل ...

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow