بعض مبصرین نے اسے ایک اہم تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

عدالتوں کے دائرۂ کار فاٹا تک بڑھانے کا بِل قومی اسمبلی سے منظور

پاکستان پارلیمان کے ایوانِ زیریں قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرۂ کار کو ملک کے قبائلی علاقوں (فاٹا) تک توسیع دینے کا بل منظور کر لیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بِل حال ہی مقرر کیے جانے والے نئے وزیر قانون بشیر محمود ورک نے جمعے کو ایوان میں پیش کیا جسے ایوان کی اکثریت نے منظور کر لیا ۔

اب اس بِل کو منظوری کے لیے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

بعض مبصرین نے اسے ایک اہم تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

فاٹا میں اصلاحات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری پہلے ہی وفاقی کابینہ دے چکی ہے جن میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرۂ کار کو فاٹا تک توسیع دینے اور اسے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

حکومت کہہ چکی ہے ان سفارشات پر مرحلہ وار عمل درآمد ہو گا۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اور بعض عوامی حلقوں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے تاکہ اس پسماندہ علاقے کو قومی دھارے میں شامل کر کے اس کی تعمیر و ترقی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم اس حوالے سے تاحال پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

فاٹا میں اصلاحات، خاص طور پر قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے پر کچھ اختلافات ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتیں اس حق میں ہیں کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے۔

لیکن حکومت کی دو اتحادی جماعتیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا مؤقف ہے کہ فاٹا کے انضمام کے فیصلے سے قبل ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے۔

قبائلی علاقے کے خیبر پختونخوا میں انضمام یا اسے الگ صوبائی حیثیت دینے کے مطالبات کرنے والے حلقے اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے اور اجتماعات بھی منعقد کرتے رہے ہیں۔

اگرچہ وفاقی حکومت قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق قائم کمیٹی کی سفارشات کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں فاٹا کو شمال مغربی صوبے میں ضم کرنے کا کہہ چکی ہے لیکن اب بھی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض حلقے ان علاقوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

x

Check Also

حکومتِ امریکہ کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا خدشہ لاحق

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سرکاری کاروبار میں جزوی خلل ’’پڑ سکتا ہے‘‘، جو 2013ء کے بعد پہلا ’شٹ ڈاؤن‘ ہوگا

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow