سرحدوں اور ریاستی امور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے قبائلی علاقوں کے سیکریٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فاٹا میں کام کرنے والی تمام مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی تفصیلات تمام جزیات کے ساتھ پیش کرے۔ اس مطالبے کی وجہ کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر صالح شاہ کی طرف سے وہ تحفظات تھے جو ان کے بقول احکامات کے باوجود ان غیر سرکاری تنظیموں میں قابل ذکر تعداد میں مقامی افراد کو ملازمت نہ دینے سے پیدا ہوئے۔ جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سینیٹر صالح شاہ نے بتایا کہ گورنر خیبر پختوںخواہ کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھی یہ کہہ چکی ہے کہ فاٹا میں کام کرنے والی این جی اوز کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا جو کہ بہت نامناست ہے۔ "ہم چاہتے ہیں کہ جتنی این جی اوز ہمارے فاٹا میں کام کر رہی ہیں حق بنتا ہے کہ وہ ہم سے مل کر آگے کام کریں۔۔۔ہماری اطلاعات کے مطابق غیر مقامی 80 فیصد ہیں اور 10 یا 20 فیصد لوگوں کو یہ ملازمت دیتی ہیں یہ ایک ظلم ہے، وہاں کے مقامی لوگ اگر این جی اوز میں بھرتی کیے جائیں تو ان کی مشاورت سے ان کی وساطت سے کام میں آسانی بھی ہی ہو گی اور لوگوں کو فائدہ بھی ہو گا۔" انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بنا دی ہے جو فاٹا میں کام کرنے والی این جی اوز کو بلا کر ان سے تفصیلات حاصل کرے گی۔ لیکن وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں ایک عرصے سے مصروف عمل غیر سرکاری تنظیم 'ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان' کے عہدیدار سکندر زمان اس تاثر اور ایسی اطلاعات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ خود قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے تجربے میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس میں ملازمت کے معاملے پر مقامی لوگوں کی حق تلفی کی گئی ہو۔ "ہماری کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ہمارے منصوبوں کو وہ (سیکرٹریٹ) منظور کرتے ہیں۔ ہم گراس روٹ لیول کی این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، سیفرون کا ایک نوٹیفیکیشن بھی آیا تھا کہ 70 فیصد مقامی لوگ ملازم ہوں گے، اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ امتحان کے ذریعے ان کا انتخاب ہوتا  ہے اور ہمارے منصوبوں میں 80 فیصد لوگ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔" اسی اثنا میں وفاقی وزارت داخلہ نے ایسی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو فی الوقت کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کی اپیل پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔ لیکن اپیل نا منظور ہونے کی صورت میں انھیں 60 روز میں اپنا کام بند کر دینا ہو گا اور ان کے غیر ملکی عملے کو پاکستان سے چلے جانا ہو گا۔

فاٹا میں کام کرنے والی این جی اوز سے مقامی افراد کو روزگار دینے کا مطالبہ

سرحدوں اور ریاستی امور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے قبائلی علاقوں کے سیکریٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فاٹا میں کام کرنے والی تمام مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی تفصیلات تمام جزیات کے ساتھ پیش کرے۔

اس مطالبے کی وجہ کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر صالح شاہ کی طرف سے وہ تحفظات تھے جو ان کے بقول احکامات کے باوجود ان غیر سرکاری تنظیموں میں قابل ذکر تعداد میں مقامی افراد کو ملازمت نہ دینے سے پیدا ہوئے۔

جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سینیٹر صالح شاہ نے بتایا کہ گورنر خیبر پختوںخواہ کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھی یہ کہہ چکی ہے کہ فاٹا میں کام کرنے والی این جی اوز کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا جو کہ بہت نامناست ہے۔

“ہم چاہتے ہیں کہ جتنی این جی اوز ہمارے فاٹا میں کام کر رہی ہیں حق بنتا ہے کہ وہ ہم سے مل کر آگے کام کریں۔۔۔ہماری اطلاعات کے مطابق غیر مقامی 80 فیصد ہیں اور 10 یا 20 فیصد لوگوں کو یہ ملازمت دیتی ہیں یہ ایک ظلم ہے، وہاں کے مقامی لوگ اگر این جی اوز میں بھرتی کیے جائیں تو ان کی مشاورت سے ان کی وساطت سے کام میں آسانی بھی ہی ہو گی اور لوگوں کو فائدہ بھی ہو گا۔”

انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بنا دی ہے جو فاٹا میں کام کرنے والی این جی اوز کو بلا کر ان سے تفصیلات حاصل کرے گی۔

لیکن وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں ایک عرصے سے مصروف عمل غیر سرکاری تنظیم ‘ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان’ کے عہدیدار سکندر زمان اس تاثر اور ایسی اطلاعات سے اتفاق نہیں کرتے۔

انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ خود قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے تجربے میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس میں ملازمت کے معاملے پر مقامی لوگوں کی حق تلفی کی گئی ہو۔

“ہماری کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ہمارے منصوبوں کو وہ (سیکرٹریٹ) منظور کرتے ہیں۔ ہم گراس روٹ لیول کی این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، سیفرون کا ایک نوٹیفیکیشن بھی آیا تھا کہ 70 فیصد مقامی لوگ ملازم ہوں گے، اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ امتحان کے ذریعے ان کا انتخاب ہوتا ہے اور ہمارے منصوبوں میں 80 فیصد لوگ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔”

اسی اثنا میں وفاقی وزارت داخلہ نے ایسی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو فی الوقت کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کی اپیل پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔

لیکن اپیل نا منظور ہونے کی صورت میں انھیں 60 روز میں اپنا کام بند کر دینا ہو گا اور ان کے غیر ملکی عملے کو پاکستان سے چلے جانا ہو گا۔

Leave a Reply

x

Check Also

حکومتِ امریکہ کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا خدشہ لاحق

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سرکاری کاروبار میں جزوی خلل ’’پڑ سکتا ہے‘‘، جو 2013ء کے بعد پہلا ’شٹ ڈاؤن‘ ہوگا

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow