امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے فوجی امداد معطل کرنے کے امریکی فیصلے سے پاکستان کو دو ارب ڈالر  کے قریب نقصان  اُٹھانا پڑے گا۔ دونوں ملکوں کے اعلیٰ اہلکاروں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے طریق کار کے بارے میں شدید اختلافات جاری ہیں۔ تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے آج جمعہ کے روز کہا ، ’’ امریکی درخواست کو سنجیدگی سے لینے کیلئے پاکستان کو کافی وقت دیا گیا تھا  اور ہم نے یہ واضح کر دیا تھا کہ امریکہ پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں پاکستان کی طرف سے اب تک کوئی معنی خیز اقدام دکھائی نہیں دیا ہے۔‘‘ ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کیلئے فوجی امداد معطل کر رہا ہے اور یہ اُس وقت تک معطل رہے گی جب تک پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کرتا۔ معطل کی گئے فنڈ میں فوجی سازوسامان کیلئے ایک ارب اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیلئے 90 کروڑ ڈالر کی رقم شامل ہے۔  تاہم پاکستان  نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سیکورٹی کے شعبے میں امریکہ سے تعاون اور علاقائی امن کیلئے کوششیں متاثر ہوں گی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وائس آف امریکہ سے بات  کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مقصد  کبھی مالی امداد  حاصل کرنا نہیں رہا بلکی اس کا مقصد امن کا حصول رہا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کو ملک کے اندر ایسے  محفوط ٹھکانے فراہم کر رہا ہے  جہاں سے وہ افغانستان میں امریکی فوجوں پر  حملے کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی انسداد دہشت گرد کارروائیاں بلا تفریق جاری رہی ہیں اور ان میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان نے بے اندازہ جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ارادوں پر شبہے کا اظہار کرنا   امن و استحکام کے حصول سے متعلق ہمارے مشترکہ مقصد کیلئے اچھا نہیں ہے۔ پاکستان ملک میں امن و استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اُدھر پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے  آج جمعہ کے روز امریکہ کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن اور یک طرفہ اعلانات پر شدید تنقید کی۔  اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان نے زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلے سے زیادہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے اور اس کیلئے امریکہ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں معاندانہ پالیسی اختیار کرنےسے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔

’’ فوجی امداد کی معطلی سے پاکستان کو   1.9 ارب ڈالر کا تقصان بھگتنا ہو گا‘‘

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے فوجی امداد معطل کرنے کے امریکی فیصلے سے پاکستان کو دو ارب ڈالر کے قریب نقصان اُٹھانا پڑے گا۔

دونوں ملکوں کے اعلیٰ اہلکاروں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے طریق کار کے بارے میں شدید اختلافات جاری ہیں۔ تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے آج جمعہ کے روز کہا ، ’’ امریکی درخواست کو سنجیدگی سے لینے کیلئے پاکستان کو کافی وقت دیا گیا تھا اور ہم نے یہ واضح کر دیا تھا کہ امریکہ پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں پاکستان کی طرف سے اب تک کوئی معنی خیز اقدام دکھائی نہیں دیا ہے۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کیلئے فوجی امداد معطل کر رہا ہے اور یہ اُس وقت تک معطل رہے گی جب تک پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کرتا۔

معطل کی گئے فنڈ میں فوجی سازوسامان کیلئے ایک ارب اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیلئے 90 کروڑ ڈالر کی رقم شامل ہے۔ تاہم پاکستان نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سیکورٹی کے شعبے میں امریکہ سے تعاون اور علاقائی امن کیلئے کوششیں متاثر ہوں گی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مقصد کبھی مالی امداد حاصل کرنا نہیں رہا بلکی اس کا مقصد امن کا حصول رہا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کو ملک کے اندر ایسے محفوط ٹھکانے فراہم کر رہا ہے جہاں سے وہ افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی انسداد دہشت گرد کارروائیاں بلا تفریق جاری رہی ہیں اور ان میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان نے بے اندازہ جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ارادوں پر شبہے کا اظہار کرنا امن و استحکام کے حصول سے متعلق ہمارے مشترکہ مقصد کیلئے اچھا نہیں ہے۔ پاکستان ملک میں امن و استحکام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اُدھر پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے آج جمعہ کے روز امریکہ کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن اور یک طرفہ اعلانات پر شدید تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان نے زیادہ تر اپنے وسائل سے لڑی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلے سے زیادہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے اور اس کیلئے امریکہ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں معاندانہ پالیسی اختیار کرنےسے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔

x

Check Also

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی آن لائین ٹرولنگ اور اس کے آزادی اظہار پر اثرات

’’میرے ساتھ ایسے واقعات 2012 سے ہو رہے ہیں جب پاکستان سائبر فورس نام کے فیس بک اکاؤنٹ نے میرے گھر والوں کا نام، میری ساری نجی معلومات فیس بک پر ڈال دی تھیں اور اور شوٹ ایٹ سائٹ کا مطالبہ لکھ دیا‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow