امریکی شہریوں کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا سفر بھی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی شہریوں کو پاکستان کے سفر میں احتیاط برتنے کی ہدایت

امریکہ نے پاکستان میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کے پیشِ نظر اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں توو ہ اس پر نظرِ ثانی کریں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک انتباہ میں امریکی شہریوں کو صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ پاکستان میں ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی شہریوں کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا سفر بھی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گرد بغیر کسی انتباہ کے سیاحتی مقامات، ٹرانسپورٹ کے اڈوں، تجارتی مارکیٹوں، فوجی اور سرکاری تنصیبات، ہوائی اڈوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور عبادگاہوں اور دیگر مقامات پر حملہ کر سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں 40 بڑے دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں 225 افراد ہلاک جب کہ 475 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر حملے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں رونما ہوئے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ ا گر انہیں پاکستان جانے کی ضرورت ہے تو وہ اپنے گردو نواح اور مقامی حالات سے اپنے آپ کو آگاہ رکھیں اور اور اگر انہیں عوامی مقامات، ریستورانوں یا سرکاری اداروں میں جانے کی ضرورت پیش آئے تو وہ ان جگہوں پر اپنی موجودگی کم سے کم وقت تک محدود رکھیں۔

پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے حالیہ مہینوں میں جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری میں اپنے سفارتی عملے اور امریکی شہریوں کو ملکی سکیورٹی کی صورتِ حال کی پیشِ نظر نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی رہی ہے۔

اگرچہ ماضی کی نسبت حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے تاہم اب بھی ملک میں ایسے وقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن میں دہشت گرد عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

رواں ہفتے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کے ایک ٹرک کے قریب زوردار دھماکہ ہوا تھا جس میں چار پولیس اہل کاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے تھء۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ چھٹا دہشت گرد حملہ تھا۔ ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند گروپ تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

x

Check Also

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی آن لائین ٹرولنگ اور اس کے آزادی اظہار پر اثرات

’’میرے ساتھ ایسے واقعات 2012 سے ہو رہے ہیں جب پاکستان سائبر فورس نام کے فیس بک اکاؤنٹ نے میرے گھر والوں کا نام، میری ساری نجی معلومات فیس بک پر ڈال دی تھیں اور اور شوٹ ایٹ سائٹ کا مطالبہ لکھ دیا‘‘

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow